بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کی ذمہ داریاں


سوال

 بیوی کے انتقال کے بعد میں نے دوسری شادی کی اور شادی کے وقت بیوی سے کہا کہ تم میری فوت شدہ بیوی کے بچوں کا خیال رکھوگی ، کچھ وقت تک خیال رکھتی رہی ،اب اپنی ذمہ داری چھوڑدی اور کہتی ہے کہ یہ  میری ذمہ داری نہیں ، اب سوال یہ ہے کہ میرے بچوں کا، میرا اور میرے گھر کا خیال رکھنا اس کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ نے جائز امور میں بیوی کو شوہر کی اطاعت کا حکم دیا ہے، چنانچہ شوہر جب کسی جائز امر کا حکم دےدے تو بیوی کا بلا عذر اس کی اطاعت نہ کرنا شرعا نافرمانی شمار ہوگی۔ نیز شوہر کی غیر موجودگی میں گھر اور مال کی حفاظت کرنا بیوی کی ذمہ داری ہے، چنانچہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے "و المرأة راعية على بيت زوجها و هي مسؤولة"(شعب الإيمان للبيهقي) (ترجمہ:  عورت شوہر کے گھر کی نگران ہےاور اس کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ )البتہ بعض امور ایسے ہیں کہ جو بیوی کی ذمہ داری میں داخل نہیں،لیکن اخلاقی طور پر ان کو سرانجام دینا چاہئے، مثلا: سوتیلی اولاد کی خدمت کرنا  بیوی کی ذمہ داری  نہیں، لیکن باہمی الفت ومحبت کو برقرار رکھنے کے واسطے بطور تبرع و احسان ان کی خدمت کرنی چاہئے۔

صورت مسئولہ میں شوہر کی اطاعت کرنا اور گھر کا خیال رکھنا بیوی کی ذمہ داری میں داخل ہے، لیکن شوہر کی دیگر اولاد کی خدمت کرنا موجودہ بیوی کی ذمہ داری میں داخل نہیں ۔

﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ﴾(النساء/۳۴)

وأن عليها طاعته وقبول أمره مالم تكن معصية---- قال عطاء وقتادة حافظات لما غاب عنه أزواجهن من ماله وما يجب من رعاية حاله وما يلزم من صيانة نفسها له۔(أحكام القرآن للجصاص، باب ما يجب على المرأة طاعة زوجها، ج:2، ص: 188)

وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به۔ وقال ابن عابدين تحت قوله"في كل مباح"  ظاهره أنه عند الأمر به منه يكون واجبا عليها كأمر السلطان الرعية به۔(ردالمحتار مع الدرالمختار، كتاب النكاح، باب القسم، ج:4، ص:388)


فتویٰ نمبر : 6232/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور