بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
سونے کی ادھار خرید وفروخت میں قیمت مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ مقرر کرنا
سوال
سونے کی ادھار خرید وفروخت میں اس کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ طے کی جاسکتی ہے یا مارکیٹ ریٹ ہی پر خرید و فروخت لازم ہے ؟ مثلاً : مارکیٹ میں ایک تولہ سونا ایک لاکھ روپے ہے ،اب اگر کوئی گاہک سونا خریدتا ہے اور فی الحال وصول کرتا ہے لیکن رقم بعد میں ادا کرتا ہے تو اس کو ایک تولہ سونا 105000 کا فروخت کرنا یا اس کے برعکس اگر رقم ایڈوانس دیتا ہے اور سونا بعد میں وصول کرتا ہے تو ایک تولہ سونا 98000 پر فروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا مارکیٹ ریٹ ہی پر فروخت کرنا لازم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ سونے کا سونے سے تبادلہ کرنے میں خواہ سونا جس شکل میں بھی ہو کمی زیادتی اور ادھار کا معاملہ جائز نہیں ، نیز ہر ان دو چیزوں کے تبادلہ میں ایک طرف زیادتی جائز نہیں جو جنس اور قدر(مکیلی اورموزونی ہونے ) کے اعتبار سے ایک ہوں ،چاہے یہ زیادتی حقیقی ہو یا حکمی ہو جیسا کہ ادھار ،اس لئے ان کا تبادلہ نقد اور بغیر ایک طرف کی زیادتی کے ضروری ہے ۔ گزشتہ زمانے میں اگرچہ کرنسی کی پشت پر عموماً سونا موجود ہوتا تھا اور کرنسی اس کی رسید سمجھی جاتی تھی ،لیکن موجودہ دور میں کرنسی نے عالمی مارکیٹ میں مستقل ثمن عرفی کی حیثیت اختیار کی ہے اس لیے یہ سونے سے الگ جنس ہے ،لہذاسونے اور کرنسی کے باہم تبادلہ میں ادھار کا معاملہ جائز ہے ۔نیز ادھار کی وجہ سے سونے کی قیمت میں زیادتی کرنا بھی جائز ہے ، بشرط یہ کہ مجلس عقد میں ان میں سے ایک پر قبضہ کیا جائے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سونے کا کرنسی سے تبادلہ نقد اور ادھار دونوں طرح جائز ہے ،بشرط یہ کہ مجلس عقد ہی میں سونے اور کرنسی میں سے کسی ایک پر قبضہ کیا جائے۔نیز اگر سونا نقد ہو اور رقم ادھار ہو تو بائع اور مشتری کا باہمی رضامندی سے قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ مقرر کرنا ،اور اگر سونا ادھار ہو اور رقم نقد ہو تو قیمت کم مقرر کرنا شرعا جائز ہے ۔
عن عبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مثلا بمثل، سواء بسواء، يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد"۔(الصحيح لمسلم، باب الربا، ج:2،ص:25)
وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء۔(الهداية،كتاب البيوع، باب الربا، ج:5،ص:177)
وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز لأن الفلوس الرائجة ثمن كالنقود وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما لا يشترط ذلك في الدراهم والدنانير ۔ ۔ ۔ ۔ وإنما يجب التقابض في الصرف بمقتضي اسم العقد وبيع الفلوس بالدراهم ليس بصرف وكذلك لو افترقا بعد قبض الفلوس قبل قبض الدراهم۔(كتاب المبسوط للسرخسي،كتاب الصرف، باب البيع بالفلوس،ج:14،ص: 24)
وَلِأَنَّ الثَّمَنَ حَقُّ الْبَائِعِ وكان إلَيْهِ تَقْدِيرُهُ۔(تكملة البحرالرائق،كتاب الكراهية، فصل في البيع، ج:8،ص:38)