بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
محلے کی مسجد میں اکیلےنماز پڑھنے کا حکم
سوال
ایک محلے میں دو مسجدیں ہیں ایک پرانی مسجد ہے اور ایک نئی مسجد ہےپرانی مسجد میں پنج وقتہ نماز یں جماعت کے ساتھ نہیں ہوتی ہیں اس میں ایک شخص اکیلا نماز پڑھتا ہے اور دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ہوتی ہے ،تو اس شخص کے لیے کیا حکم ہے جو اکیلا مسجد میں نماز پڑھتا ہے کہ وہ اس پرانی مسجد کو آباد کرے یا پھر جماعت کی نماز میں شامل ہوجائے ؟
جواب
فقہائے کرام کے نزدیک محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے جب تک کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو ،چنانچہ اگر کسی مسجد میں مؤذن کے علاوہ کوئی آدمی بھی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتا تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ اذان دےاقامت کرے اور اکیلے نماز پڑھے ،اسی طرح اکیلے نماز پڑھنا دوسری مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے سے افضل ہے ،صورت مسؤلہ میں جو شخص اکیلے نماز پڑھتا ہے اس کے لیے اپنی مسجد کو آباد کرنا بہتر ہے بنسبت اس کے کہ وہ دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھے ، اس کے لیے حکم یہ ہے کہ نماز اذان واقامت کرکے پڑھے تاکہ جماعت کا ثواب بھی مل جائے۔
مؤذن مسجد لا يحضر مسجده أحد قالوا هو يؤذن ويقيم ويصلي وحده وذاك أحب من أن يصلي في مسجد آخر ۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار ،کتاب الصلوۃ ،ج1ص333)