بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 03/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لقطہ کا حکم


سوال

 حديث: عن جابر رضي الله عنه قال: "رخص لنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم – في العصا والسوط والحبل واشباهه يلتقط الرجل ينتفع به" ( رواہ ابوداؤد ) حدیث میں ذکر کردہ اشیاء کا موجودہ دور میں کیا حکم ہے؟

جواب

 فقہاء کرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ لقطہ اٹھانا افضل ہے اس کو وہاں پر چھوڑنے سے، بشرطیکہ اس میں حفاظت  اور مالک تک پہنچانے کی نیت ہو، لقطہ اگر قیمتی ہو تو اٹھانے والے کو چاہئے کہ وہ مختلف ذرائع سے اس کی تشہیر کرےتاکہ مالک تک پہنچ جائے،  جب مالک نہ ملنے کا غالب گمان ہوجائے تو جس نے اٹھایا اگر وہ خود غریب اور مستحق ہے تو اس کو استعمال کر سکتا ہے، لیکن اگر وہ مالدار ہو تو  اس کا صدقہ کرنا واجب ہے، اگر لقطہ کم قیمت کا ہو اور غالب گمان یہ ہو کہ مالک اس کو طلب نہیں کرے گا تو بغیر تشہیر بھی مستحق ہونے کی صورت میں  اس کا استعمال یا پھر اس کا صدقہ کرنا جائز ہے، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو اختیار ہےیا تو اس استعمال وصدقہ کو جائز قرار دے کر اجر وثواب حاصل کرےاور یا اس کا عوض وصول کرے۔  

                صورت مسئولہ کے مطابق حدیث میں ذکر کردہ اشیاء یعنی لاٹھی، کوڑا ، رسی اور ان جیسے دوسرے اشیاء  اگر عرف میں زیادہ قیمت والے شمار ہوتے ہو ں تو ان کی تشہیر کرنا  ضروری ہےجیسا کہ پہلے تمہید میں ذکر کیا گیا ہےلیکن اگر عرف میں یہ اشیاء کم قیمت والے ہو ں تو پھر بغیر تشہیر بھی مستحق ہونے کی صورت میں  ان کا استعمال یا پھر صدقہ کرنا جائز ہے۔

"ظاهر مذهب أصحابنا - رحمهم الله تعالى - أن الرفع أفضل، كذا في (المحيط) ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في (مجمع البحرين)" . ( الفتاوى الهندية، كتاب اللقطة، ج:2، ص: 299)

"نوع يعلم أن صاحبه لا يطلبه كالنوى في مواضع متفرقة وقشور الرمان في مواضع متفرقة، وفي هذا الوجه له أن يأخذها وينتفع بها إلا أن صاحبها إذا وجدها في يده بعد ما جمعها فله أن يأخذها ولا تصير ملكا للآخذ". (الفتاوى الهندية، كتاب اللقطة، ج:2، ص: 299)

قلت: فالعصا والسوط والحبل إن كان بحيث تدخل في الأشياء التافهة التي لا يطلبها المالك فحكمها أنه لا يجب تعريفها، ويجوز الانتفاع بها للملتقط، وإن كان من النوع الثاني فلا يجوز الانتفاع بها، ويجب تعريفها على حسب قيمتها". ( بذل المجهود فى حل ابي داوؤد، كتاب اللقطةض:8،ص: 289)


فتویٰ نمبر : 4644/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور