بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں بیع فسخ کرنا
سوال
زید نے رکشوں کے شوروم سے ایک رکشہ تین لاکھ دس ہزار روپے میں قسطوں پر اس شرط کیساتھ لیا اگر دو مہینوں کی قسط ادا نہ کی گئی تو تیسری قسط پر رکشہ بھی واپس ہوگا اور ادا شدہ قسط بھی واپس نہ ہوگی زید کا شوروم والوں کیساتھ اس شرط پر معاہدہ کرنا کیسا ہے؟
جواب
خریدوفروخت کرتے وقت ایسی شرط لگانا جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو اور اس میں بائع یا مشتری میں سے کسی کا فائدہ ہو تو ایسی شرط عقد کو فاسد کردیتی ہے اور ایسی بیع کا حکم یہ ہے کہ بائع اور مشتری پر اس عقد کو فسخ کرنا لازم ہوتا ہے۔
صورتِ مسؤلہ کےمطابق ابتداء عقد میں یہ شرط عائد کرنا کہ اگر دو مہینوں کی قسط ادا نہ کی گئی تو رکشہ بھی واپس لیا جائے گا اور ادا شدہ قسط بھی ضبط کی جائے گی ایک شرط فاسد ہے اس سے بیع فاسد ہوجاتی ہے اور ایسی شرط پر بائع یا مشتری کی رضا یا عدم رضاکا کوئی اعتبار نہیں بلکہ عقد میں موجود اس خرابی کو جب تک دور نہ کیا جائے اس وقت تک شریعت کی نگاہ میں یہ بیع درست نہیں ہے، ایسی بیع کو ختم کرنا لازم ہے ۔
وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا أو لأنه يقع بسببه المنازعة فيعري العقد عن مقصوده۔ (الهداية شرح البدايه ،ج3،ص4)
فالحاصل أن كل جهالة تفضي إلى المنازعة مبطلة فليس يلزم أن ما لايفضي إليها يصح معها بل لا بد مع عدم الإفضاء إليها في الصحة من كون المبيع على حدود الشرع ألا ترى أن المتبايعين قد يتراضيا على شرط لا يقتضيه العقد وعلى البيع بأجل مجهول كقدوم الحاج ونحوه ولايعتبر ذلك مصحّحًا، كذا في فتح القدير۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ،ج5،ص32)