بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

استصناع کی ایک صورت


سوال

میں نے بھٹہ خشت کے مالک کو خشت کی قیمت طے کر کے پانچ لاکھ روپے ایڈوانس دے دئیے۔ ہفتہ وار یا دو ہفتوں میں ایک یا دو گاڑیاں چار چار ہزار خشت کی سپلائی کرنے کا وعدہ ہوا ۔ دو ، تین مہینے مستقل معاہدہ کے مطابق خشت سپلائی ہوتی رہی اور پھر کچھ عرصہ کے لیے آرڈر موصول نہیں ہوا معلوم کرنے پر جواب ملا کہ آپ کی خشت کو میں نے فروخت کردیا ہے فلاں شخص سے رقم وصول کرلو۔ کیا یہ رقم میرے لیے جائز ہے کہ نہیں ؟ وہ آدمی میرے لیے ان اینٹوں کو فروخت کر سکتا ہے یا نہیں اگر میں اس کے فروخت کرنے پر راضی ہوں؟ اگر مذکورہ معاملہ غلط ہے تو متبادل جائز صورت کیا ہو سکتی ہے؟

جواب

ایک شخص کسی دوسرے کو مخصوص رقم کے عوض متعین صفات پر مشتمل کسی چیز کے بنانے کا آرڈر دے تو یہ عقدِ استصناع کہلاتا ہے اور عٍقدِ استصناع میں مبیع جب تک حوالے نہ کیا جائے  تو وہ صانع کی ملکیت میں شمار ہوتا ہے۔

صورتِ مسؤلہ کے مطابق جب مشتری نے پانچ لاکھ روپے کے عوض بھٹہ خشت کے مالک کو  اینٹوں کے بنانے اور سپلائی کرنے کا آرڈر دیا  تو یہ درحقیقت عقدِ استصناع ہے اور عقدِ استصناع میں چونکہ مبیع کی وصولی سے قبل  اس پر مشتری (مستصنع) کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی لہذا بھٹہ خشت کے مالک نے جو اینٹیں  بنانے کے بعد سائل  کو حوالہ کرنے سے پہلے بیچی ہیں یہ اس نے اپنی ہی اینٹیں بیچی ہیں سائل کی نہیں  کیونکہ سائل  کی ملکیت اس پر ثابت نہیں ہوئی تھی لہذا اب سائل کا حق اینٹوں میں بنتا ہے کہ بقیہ اینٹیں وصول کرے۔

هو (اي الإستصناع) عقد على مبيع في الذمة شرط فيه العمل۔  (بدائع الصنائع ، فصل واما جوازه ، ج5 ، ص2)

 وأمّاحكم الاستصناع فهو ثبوت الملك للمستصنع في العين المبيعة في الذمة وثبوت الملك للصانع في الثمن ملكا غير لازم۔  (بدائع الصنائع، فصل و اماصفة الاستصناع ، ج5 ، ص3)


فتویٰ نمبر : 2816/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور