بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے سے زکوۃ کی ادائیگی


سوال

زید نے دبئی سے اپنے دوست کو فون کر کے کہا کہ میرے پاس زکوۃ کے کچھ پیسے ہیں آپ کو دینا چاہتا ہوں کیا ترتیب کروں رقم بھیجنے کی ؟ دوست نے کہا میرا ایک ذاتی اکاؤنٹ ہے بینک میں آپ اس میں ٹرانسفر کردیں زید نے دوست کے کہنے پر وہ رقم دوست کے اکاؤنٹ میں جمع کردی، دو دن کے بعد زید کا دوست فوت ہوگیا اور اکاؤنٹ سے پیسے نہیں نکلوائے تو کیا زید کی زکوۃ ادا ہوئی کہ نہیں ؟ ایک مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ میں رقم آنا بھی قبضہ میں شمار ہوتا ہے لہذا زید کی زکوۃ ادا ہوچکی ہے،صحیح بات کیا ہے ؟ راہنمائی فرمایئے؟

جواب

زکوۃ کی ادائیگی کی منجملہ شرائط میں سے  تملیک بھی ہے  کہ کسی فقیر یا مسکین کو زکوۃ کا مالک بنا دیا جائے  ۔اکاؤنٹ میں پیسے منتقل ہونے کی صورت میں چونکہ  اکاؤنٹ ہولڈر کا  اس پر مکمل قبضہ حاصل ہو جاتا ہے نیز منتقل کرنے والے کا  اس سے قبضہ اور تصرف کا اختیار مکمل ختم ہوجاتا ہے اس لیے یہ بھی تملیک ہی ہے چنانچہ اگر زید کا دوست مستحقِ زکوۃ تھا  تو اس  کے اکاؤنٹ میں زکوٰ ۃ کی رقم بھیجنے سے زید کی زکوۃ ادا ہوچکی ہے۔

 أَمَّا رُكْنُهُ فَهُوَ التَّمْلِيكُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى { وَآتُوا حَقَّهُ يوم حَصَادِهِ } وَالْإِيتَاءُ هو التَّمْلِيكُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى { وَآتُوا الزَّكَاةَ } فَلَا تَتَأَدَّى بِطَعَامِ الْإِبَاحَةِ وَبِمَا ليس بِتَمْلِيكٍ رَأْسًا من بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ وَنَحْوِ ذلك مِمَّا ذَكَرْنَا في النَّوْعِ الْأَوَّلِ وَبِمَا ليس بِتَمْلِيكٍ من كل وَجْهٍ۔(بدائع الصنائع،فصل واما بيان ركن هذا لنوع وشرائط الركن،ج2،ص64)


فتویٰ نمبر : 8765/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور