بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
سات ماہ کے حمل کو ساقط کرنے والے کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت زنا سے حاملہ ہو چکی ہے ، اس کے پیٹ میں سات ماہ کا حمل ہے، اب شوہر کی اجازت سے حمل کا اسقاط کر دیا ہے۔ اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ عورت منکوحہ ہے اور غیر شوہر کے ساتھ تعلقات، نکاح کے بعد قائم کیے ہیں اور اس دوران اپنے شوہر سے بھی ازدواجی تعلق قائم رہا۔
جواب
شریعتِ مطہرہ نے انسانی جان کے تحفظ اور احترام کی خاطر ناحق قتل کو حرام قرار دیا ہے خواہ وہ ماں کے پیٹ میں موجود جنین ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ جب ماں کے پیٹ میں حمل ٹھہر جائےتو اس کے بعد اس کو ساقط کرنا شرعاً جائز نہیں، بالخصوص جب حمل چار ماہ کا ہو جائے، کیوں کہ چار ماہ میں بچے کے اعضا مکمل ہو کر اس کے اندر روح ڈال دی جاتی ہے، اس لیے اس کے بعد خواہ شوہر کی اجازت سے ہو یا بغیر اجازت کے ہو، بہر صورت حمل کو ساقط کرنا قتلِ اولاد کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ اگر کسی نے اس جرم کا ارتکاب کیا تو اس پر شرعاً غرّہ (بطور جرمانہ، پانچ سودراہم =153گرام چاندی= 132 تولے چاندی یا اس کی قیمت ) لازم ہوگا، جو بچے کے شرعی ورثا کے درمیان میراث کے اصول کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، تا ہم اگر کوئی عورت شوہر کی اجازت سے حمل کو ساقط کر دے تو اس صورت میں اس پر یہ جرمانہ لازم نہیں ہوتا، البتہ گناہ اپنی جگہ رہے گا جس سے توبہ کرنا لازم ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق کسی خاتون کا سات ماہ کے حمل کو ساقط کرنا شرعاً ناجائز اقدام ہے، اس لیے اس پر دل سے ندامت اور توبہ و استغفار لازم ہے۔ تاہم عورت کے منکوحہ ہونے کی وجہ سے چونکہ یہ بچہ اس کے شوہر کی طرف منسوب ہوگا، اور اسی شوہر کی اجازت سے اس نے حمل کو ساقط کر دیا ہے، اس لیے اس عورت پر غرّہ (جرمانہ) لازم نہیں ۔
﴿ولا تقتلو اولادكم خشية املاق﴾ ( الإسراء، 31 )
وَإِنْ شَرِبَتْ دَوَاءً لِتَطْرَحَهُ أو عَالَجَتْ فَرْجَهَا حتى أَسْقَطَتْهُ ضَمِنَ عَاقِلَتُهَا الْغُرَّةُ إنْ فَعَلَتْ بِلَا إذْنٍ... بِخِلَافِ ما إذَا فَعَلَتْ ذلك بِإِذْنِ الزَّوْجِ حَيْثُ لَا تَجِبُ الْغُرَّةُ لِعَدَمِ التَّعَدِّي. ( البحر الرائق، كتاب الديات، فصل في الجنين، ج: 9/ ص: 105)
وَمِنْهَا ثُبُوتُ النَّسَبِ وَإِنْ كان ذلك حُكْمَ الدُّخُولِ حَقِيقَةً لَكِنَّ سَبَبَهُ الظَّاهِرَ هو النِّكَاحُ لِكَوْنِ الدُّخُولِ أَمْرًا بَاطِنًا فَيُقَامُ النِّكَاحُ مَقَامَهُ في إثْبَاتِ النَّسَبِ. (بدائع الصنائع، كتاب النكاح، فصل في ثبوت النسب، ج:3/ ص: 607 )