بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
نماز مغرب کاوقت
سوال
ہمارےہاں پاکستان میں خاص کرپشاوراور بنوں میں نمازمغرب کاوقت منٹ کے حساب سےکتنی دیر تک رہتا ہے؟
جواب
امام ابوحنیفہؒ کےنزديك مغرب كاوقت اس وقت ختم ہوتاہے،جب شفق ابیض غائب ہوجائےیعنی مغرب کی طرف افق پر سورج کے غروب ہونے کےبعد جوسرخی ہوتی ہےوہ بھی ختم ہوجائے،اوراس کے بعد جو سفیدی پھیلتی ہے وہ بھی ختم ہوکر مکمل اندھیراہوجاِئے۔
محققین علماء اورماہرین فن میں سے اکثر کے ہاں شفق ابیض اس وقت غا ئب ہوتا ہے ،جب سورج افق سے اٹھارہ درجے نیچےچلا جائے ۔ ان اٹھا رہ درجوں کا مجموعی وقت موسم اور علا قہ کی تبد یلی سےمختلف ہوتا رہتا ہے،اس لئے منٹوں میں اس کی مقدار متعین طور پر نہیں بتائی جاسکتی۔ائمہ مساجداورعوام کو چاہیےکہ مستند ماہرین صحیح اصول پرجو نقشے تیار کرتےہیں، ان کے مطابق اذان وجماعت کا وقت متعین کیا کریں اس سے پہلے نہیں تاکہ نماز جیسا اہم فريضه بے احتیاطی کی وجہ سے ذمےپر باقی نہ رہے۔کیونکہ وقت داخل ہونے سے قبل پڑھی گئی نماز مقبول نہیں ہوتی۔
وَاخْتَلَفُوا في تَفْسِيرِ الشَّفَقِ فَعِنْدَ أبي حَنِيفَةَ هو الْبَيَاضُ وهو مَذْهَبُ أبي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَمُعَاذٍ وَعَائِشَةَ رضي اللَّهُ عَنْهُمْ وَعِنْدَ أبي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ وَالشَّافِعِيِّ هو الْحُمْرَةُ وهو قَوْلُ عبد اللَّهِ بن عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بن عُمَرَ رضي اللَّهُ عَنْهُمْ۔۔۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ النَّصُّ وَالِاسْتِدْلَالُ أَمَّا النَّصُّ فَقَوْلُهُ تَعَالَى { أَقِمْ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إلَى غَسَقِ اللَّيْلِ } جَعَلَ الْغَسَقَ غَايَةً لِوَقْتِ الْمَغْرِبِ وَلَا غَسَقَ ما بَقِيَ النُّورُ الْمُعْتَرِضُ وَرُوِيَ عن عَمْرِو بن الْعَاصِ رضي اللَّهُ عنه أَنَّهُ قال آخِرُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ ما لم يَسْقُطْ نُورُ الشَّفَقِ وَبَيَاضُهُ وَالْمُعْتَرِضُ نُورُهُ وفي حديث أبي هُرَيْرَةَ رضي اللَّهُ عنه وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حين يَسْوَدُّ الْأُفُقُ وَإِنَّمَا يَسْوَدُّ بِإِخْفَائِهَا بِالظَّلَامِ۔(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان شرائط الأ ركان، ج: 1 ص: 569)
قال أبو حنيفة۔ رضي الله عنه۔: الحمرة أثر الشمس، والبياض أثرالنهار، فما لم يذهب قبل ذلك لايصير ليلا مطلقا. وقولهما أوسع للناس وقول أبي حنيفة رضي الله عنه أحوط ۔(البناية في شرح الهداية، ج:2 ص:32)