بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لڑکے کا شرعی حصہ حق مہر قراردینا


سوال

ہمارے علاقے کوہاٹ میں جب نکاح ہوتا ہے تو لڑکی کے مہر میں جہاں سونا ،نقدی لکھتے ہیں وہاں یہ عبارت بھی لکھتے ہیں کہ (لڑکے کا شرعی حصہ ) یعنی اس گھر میں لڑکے کا جو شرعی تقسیم میراث کے حوالے حصہ بنتا ہے وہ حصہ لڑکی کا مہر ہے جبکہ مورث (لڑکے کا باپ/گھر کا مالک )زندہ ہوتا ہے اب ایسی صورت میں جب تقسیم میراث کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ مورث (باپ ) حیات ہے لڑکی کو شرعی حصہ ملے گا یا مہر مثل ؟بصورت دیگراگر نکاح نامہ پر لڑکے کے والد یعنی لڑکی کے سسر کے دستخط موجود ہوں تو کیا باپ اپنی بہو کے مہر کا ضامن اور کفیل ہوگا ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے مقدار مہر کی تعیین  گفتگو کے ذریعے سے   کردی جائے  یا اشارہ کے ذریعے سے مہر متعین کیا جائے دونوں صورتوں میں مہرکی تعیین درست ہے اور مہر  مسمی واجب ہوتا ہے ۔البتہ اگر شوہر مہر میں کسی ایسی چیز کی تعیین کرے  جو اس کی ملکیت میں نہ ہوتو شرعا مہر کی تعیین درست ہوکر مہر مسمی واجب ہوگا البتہ ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے بیوی کو مہر میں مقررہ چیز کی قیمت  اداکرنا لازم ہو گا۔نیز مہر کی ادائیگی  شرعا شوہر کے ذمہ لازم ہے لیکن اگر لڑکے کا باپ  بہو کیلئے اپنے مال یا جائیداد سے مہر کی ادائیگی کا ضمان قبول کرلے تو ایسی صورت میں بہو کیلئے شوہر یا اس کے باپ سے مہر کا مطالبہ کرنا جائز ہے ۔

                صورت مسؤلہ  کے مطابق اگر نکاح میں مہر مقرر کرتے وقت سونا چاندی کے ساتھ "گھرمیں لڑکے کاحصہ "بھی حق مہر قرار دیا جائے جبکہ گھر باپ  کی ملکیت میں ہو توچونکہ باپ کی زندگی میں اس کے گھر میں بیٹے کا کوئی حصہ نہیں اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں کہ بیٹا باپ کے مرنے کے وقت زندہ ہوگا کہ وارث بنے لہذا دونوں صورتوں میں گھر میں لڑکے  کاکسی بھی حصہ پر ملکیت متحقق  نہیں ،لیکن ملکیت نہ ہونے کے باوجود شرعا ًمہر  کی تعیین درست ہوسکتی ہے چنانچہ مہر مقرر کرتے وقت عرف میں ان الفاظ "لڑکے کا شرعی حصہ "سے بظاہریہ مطلب  ہوسکتا ہے کہ اگر اس وقت باپ کو مرحوم    فرض کیا جائےتو جو حصہ گھر میں دیگر ورثا  کے ساتھ اس بیٹے  کو ملتا ہو وہ حصہ بہو کا حق مہر  ہوگا ایسی صورت میں  مہر کی تقرری وتعیین  چونکہ  درست ہے لہذا مہر  واجب ہوگا ،البتہ گھر کی ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے باپ کی رضامندی کے بغیر یہ متعین حصہ مہر میں نہیں دیا جاسکتا ۔لہذا اگر باپ   اس حصہ کی ادائیگی کا ضامن نہ بنا ہواورمہر میں گھر کا یہ حصہ دینے کیلئے کسی  بھی صورت  میں تیار نہ ہو تو لڑکے کے حصہ کے بقدر گھر کی قیمت ادا کرنا شوہر پر لازم ہو گا اور مہر مثل واجب نہیں ہوگا ،اس لیے کہ مہر کی تعیین میں جہالت نہیں ہے تاہم ملکیت نہ ہو نے کی وجہ سے متعین کردہ مہر کے بقدر قیمت  کی ادائیگی لازم ہوگی ۔

(2)مہر  ادا کرنا  شرعا ً شوہر کے ذمے واجب ہوتا ہے ۔لیکن اگر باپ نے نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا ضمان  لیتے ہوئے دستخط کیا ہو تو ایسی صورت میں  عورت اپنے شوہر کی طرح اس کے باپ سے بھی مہر کا مطالبہ کرنے کی حقدار ہے ۔

 وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير أو على هذه الدار وهي ملك الغير فالنكاح جائز والتسمية صحيحة فبعد ذلك ينظر إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى وإن لم يجز المستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية حتى لا يجب مهر المثل وإنما تجب قيمة المسمى كذا في المحيط۔(الفتاوى الهندية،کتاب النکاح ،الباب السابع في المهر ،الفصل الاول ،ج1ص303)

ولو تزوج على نصيبه من هذه الدار قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى لها الخيار إن شاءت أخذت النصيب وإن شاءت أخذت مهر مثلها لا يزاد على قيمة الدار وإن كان مهر مثلها أكثر وعلى قول صاحبيه رحمهما الله تعالى لها النصيب من الدار إن كان النصيب يساوي عشرة دراهم كذا في فتاوى قاضي خان ۔(الفتاوى الهندية،کتاب النکاح ،الفصل الخامس فی المہر تدخلہ الجہالۃ،ج1ص376)

الفصل التاسع في هلاك المهر واستحقاقه  لو تزوجها على شيء بعينه وهلك قبل التسليم أو استحق فإن كان ذلك من ذوات الأمثال رجعت على الزوج بالمثل وإلا فبالقيمة كذا في المحيط وكذلك لو وهبت العين الممهورة للزوج ثم استحقت ترجع عليه بقيمتها كذا في الظهيرية ولو استحق نصف الدار الممهورة إن شاءت أخذت الباقي ونصف القيمة وإن شاءت أخذت كل القيمة۔۔۔ولو تزوجها على عبد الغير أو على عبد نفسه ثم استحق تجب قيمة العبد إن لم يجز المستحق ولو وصل العبد إليه بسبب قبل القضاء عليه بالقيمة يؤمر بتسليم عينه كذا في العتابية۔(الفتاوى الهندية،کتاب النکاح ، الفصل التاسع في هلاك المهر واستحقاقه،ج1ص382)

( وصح ضمان الولي مهرها ولو ) المرأة ( صغيرة ) ولو عاقدا لأنه سفير( وتطالب أيا شاءت ) من زوجها البالغ أو الولي الضامن ( فإن أدى رجع على الزوج إن أمر )۔(تنوير الابصار مع شرحه الدر المختار،كتاب النكاح ،باب المهر ج4ص286)


فتویٰ نمبر : 6216/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور