بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
شوہر کا اپنی بیوی سے یہ کہنا"اگر اِس موبائل سے کچھ بھی ریکارڈمٹایا تو میری طرف سے تین طلاق ہوں گی"
سوال
میری بیوی نے اپنا موبائل فون لےکر بھاگ گئی۔میں نے کہاکہ "اگر اس موبائل سے کچھ بھی رکارڈ ختم کیا یا مٹایا تو میری طرف سے تین طلاق ہوگی"اب اگر بیوی نے یا بیوی کی ماں، بہن نے کچھ ریکارڈ مٹایا تو کیا طلاق واقع ہوگی؟یا اگر بیوی نے خود تو نہیں مٹایا البتہ اپنی ماں اور بہن کو موبائل دےدی اور ان سے کہا کہ تم مٹادو تو کیا طلاق واقع ہوگی؟
جواب
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو جب بھی وہ شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہوگی ۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق سائل کا اپنی بیوی سے یہ کہنا "اگر اس موبائل سے کچھ بھی ریکارڈ ختم کیا یا مٹایا تو میری طرف سے تین طلاق ہوں گی"تعلیقِ طلاق ہے۔ اب اگر بیوی نے خود اس موبائل سے کوئی ریکارڈ مٹایا ، یا اس نےکسی کوریکارڈ مٹانے کا حکم دیاہےاور انہوں نے مٹادیا تو وجودِ شرط کی وجہ سےتین طلاقیں واقع ہوں گی۔ تاہم اگربیوی کی طرف سے مٹانے کا حکم نہ ہواہو، اورکوئی خود مٹادے تو اس صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔
وإذا أَضَافَهُ إلَى الشَّرْطِ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ اتِّفَاقًا مِثْلُ: أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ إنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ. (فتاوى الهندية، كتاب الطلاق ، باب الرابع فى الطلاق بالشرط ، ج1 ص420)
فإذا حَلَفَ لَا يَخْرُجُ من الْمَسْجِدِ مَثَلًا: فَأَمَرَ إنْسَانًا فَحَمَلَهُ وَأَخْرَجَهُ حَنِثَ لِأَنَّ فِعْلَ الْمَأْمُورِ مُضَافٌ إلَى الْآمِرِ فَصَارَ كما إذَا رَكِبَ دَابَّةً فَخَرَجَتْ وَلَوْ أَخْرَجَهُ مُكْرَهًا لم يَحْنَثْ لِأَنَّ الْفِعْلَ لم يَنْتَقِلْ إليه لِعَدَمِ الْأَمْرِ وَلَوْ حَمَلَهُ بِرِضَاهُ لَا بِأَمْرِهِ لَا يَحْنَثُ فى الصَّحِيحِ لِأَنَّ الِانْتِقَالَ بِالْأَمْرِ لَا بِمُجَرَّدِ الرِّضَا وإذا لم يحنث فِيهِمَا لَا تَنْحَلُّ فى الصَّحِيحِ لِعَدَمِ فِعْلِهِ (البحرالرائق ، كتاب الأيمان ، باب فى الدخول و الخروج و السكنى والإتيان وغيرذالك ،ج4 ص520)