بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شریک کومشاع حصہ ہبہ کرنےکاحکم
سوال
زید،عمرواوربکراپنےباپ سےمیراث میں ملےہوئےگھرمیں رہ رہےتھے،پھرعمرواوربکرنےاپنےلیےعلیحدہ گھرخریدکراس میں رہنےلگےاب موروثہ گھرمیں صرف زیداوراس کی اولادسکونت پذیرہیں عمروکہتاہےکہ میں اپناحصہ زیداوراس کےاولادکےلیےچھوڑرہاہوں۔کیاقبل ازتقسیم یہ ہبہ درست ہے؟
جواب
واضح رہےکہ مشاع(مشترکہ)چیزجوقابل تقسیم ہو،اس کےہبہ کرنےکےلیےضروری ہےکہ اسں چیزکواپنی یادوسرےکی ملکیت سےاس طرح علیحدہ کیاجائےکہ اس کےساتھ کسی کاحق وابستہ نہ رہے۔نیزہبہ کےتام ہونےکےلیےشرعاقبضہ ضروری ہے،اورمشاع چیزہبہ کرنےکی صورت میں موہوبہ کاغیرموہوبہ کےساتھ اختلاط کی وجہ سےقبضہ متحقق نہیں ہوتا،تاہم یہ حکم اس صورت میں ہے،جب مشاع چیزکسی اجنبی کوہبہ کیاجائے،شریک جائیدادکوتقسیم سےپہلےاپناحصہ ہبہ کرنادرست ہے۔
لہٰذاصورت مسئولہ میں مذکورہ گھراگرناقابل تقسیم ہوبایں طورکہ تقسیم کےبعداس سےنفع اٹھاناممکن نہ ہوتواس صورت میں مشاع کاہبہ درست ہے،اوراگروہ قابل تقسیم ہواورکوئی وارث اپناحصہ قبل ازتقسیم دوسرےوارث کوہبہ کےطورپردیناچاہتاہوتوشرعا شریک کومشاع چیزہبہ کرنےکی گنجائش ہے۔
(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم۔(بدائع الصنائع،کتاب الهبة،فصل فی شرائطها،ج:8،ص:96،دارالکتب العلمية)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل۔۔۔(في) متعلق بتتم (محوز) مفرغ (مقسوم ومشاع لا) يبقى منتفعا به بعد أن (يقسم) كبيت وحمام صغيرين لأنها (لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار۔ (الدرالمختارمع تنويرالأبصار،کتاب الهبة،ج:8، ص:493-496،دارالکتب العمية)