بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دوسرے وکیل کا وکیل اول کو فیس میں حصہ دینا


سوال

کہ اگر ایک شخص عمر کا پیشہ وکالت ہے اس کے پاس ایک بندہ حارث کیس لے کر آتا ہے عمر کیس دوسرے وکیل نصر کو بھیجتا ہے نصر حارث سے فیس وصول کرتا ہے نصر نے بعد میں اپنی طرف سے عمر کو بھی فیس میں سے کچھ حصہ دیا عرف بھی یہی ہےکہ اگر ایک وکیل دوسرے وکیل کو کیس دے تو دینے والے کا بھی حصہ دیا جاتا ہے اب عمر کے لیے نصر سے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں، عرف اگر چل رہا ہے تو پھر کیا حکم ہے اور اگر کسی جگہ عرف نہیں تو پھر کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہےکہ اگر کوئی شخص عدالت میں اپنے کیس کو مناسب انداز میں پیش کرنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو وہ کسی بھی ایسے شخص کی خدمات حاصل کر سکتا ہے جو اس کی بات کو اچھے انداز میں بیان کر سکے اور اس کی صحیح نمائندگی کرسکے جس کو اصطلاح میں وکیل بالخصومت کہتے ہیں. اور شرعاً یہ توکیل جائز ہے نیز وکیل بالخصومت کے لیےمؤکل سے اپنے خدمات کے بدلے اجرت لینا بھی جائز ہے البتہ وکیل کے لیے یہ جائز نہیں کہ مؤکل کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کو اُس کام کے لیے وکیل بنائے جس کام کے لیے مؤکل نے اس کو وکیل بنایا ہے کیونکہ مؤکل اس وکیل کی صلاحیت پر اعتماد کر کے اس کوفیس دے کر اپنا وکیل مقرر کرتا ہےدوسرے وکیل کے بارے میں ضروری نہیں کہ وہی اعتماد ہو۔ تاہم اگر وکیل مؤکل کی اجازت سے دوسرےوکیل کو اس غرض سے شریک کرے کہ اس کی مہارت اور تجربے سے اس کیس کو تقویت ملے یا اس کی عدم موجودگی میں وہ مقدمہ لڑے تو اس صورت میں جو اجرت ان کو ملے گی وہ اجرت دونوں کے درمیان باہمی معا ہدہ سے تقسیم ہوگی جس کی تعیین باہمی طور پر پہلے سے ضروری ہے۔ علاوہ ازیں اگر وکیل اول نے محض مؤکل کی وکیل ثانی کی طرف رہنمائی کی تو وکیل اول کے لیے اس کے عوض مؤکل یا وکیل ثانی سے اجرت طلب کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں وکيل اول کی کوئی ایسی محنت شامل نہیں جس کا وہ معاوضہ طلب کر سکے دوسرے وکیل کی طرف رہبری میں وکیل اول کا کردار محض اعتماد کی جگہ کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے شرعا وہ معاوضہ کا حقدار نہیں ہوتا۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر وکیل اول مؤکل کی اجازت سے دوسرے ماہر وکیل کو شریک کرے تاکہ کیس کو اس کی مہارت سے تقویت ملے یا اس کی عدم موجودگی میں وکیل ثانی مقدمہ لڑ سکے اور دونوں وکیلوں کے درمیان باہمی معاہدہ سے اجرت تقسیم ہو جائے تو ایسی صورت میں وکیل اول کے لیے اجرت لینا جائز ہے لیکن اگر وکیل اول صرف موکل کو دوسرے وکیل کی طرف بھیجےاورمحض اس کی رہنمائی کرے تو اس صورت میں وکیل اول، موکل یا وکیل ثانی سے اجرت طلب کرنے کا حقدار نہیں۔ جہاں تک وکیل ثانی کا وکیل اول کو یہ رقم بطور تبرع واحسان دینے کا مسئلہ ہےتو چونکہ اس رقم دینے میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ بطور رشوت اس غرض سے دی جاتی ہو کہ آئندہ بھی وکیل اول استعداد وصلاحیت سے قطع نظرکرکے اس کےپاس لوگوں کو بھیجتا رہےاس لیے سد ذرائع کی وجہ سے وکیل اول کے لیے اس رقم سے اجتناب ضروری ہے۔

ويجوزالوكالة بالخصومة في سائرالحقوق لما قدمنا من الحاجة إذ ليس كل أحد يهتدي إلى وجوه الخصومات وقد صح أن عليا وكل فيها عقيلا وبعد ما أسن وكل عبدالله بن جعفر۔ (الھدایة، کتاب الوکالۃ،ج۳/ص۲۵۹،مکتبة البشری)

ليس لمن وكل بأمرأن يوكل به غيره.لأن المؤكل فوض إليه التصرف دون التوكيل به وقد رضي برأيه دون غيره والناس مختلفون في الآراء.( شرح المجلة،لسلیم رستم باز،المادة١٤٦٦,ص٧٨٧)

إذا أخذ الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة، فانه غير ممنوع شرعا إذ الوكالة عقد جائز لايجب على الوكيل اقامتها، فيجوز أخذ الأجرة فيها. (فتح القدیر،کتاب الوکالة،ج۷/ص۲)

وأما الشركة بالأعمال فهو أن يشتركا على عمل من الخياطة أو القصارة أوغيرهما فيقولا: اشتركنا على أن نعمل فيه على أن ما رزق الله ۔عزوجل۔ من اجرة فهي بيننا على شرط كذا. (بدائع الصنائع،کتاب الشرکة،ج۷/ص۵۰۳، دارالکتب العلمیة)


فتویٰ نمبر : 4603/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور