بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

چھ تولہ سونا اور 2ہزار نقد رقم پر زکوة


سوال

ایک عورت کے پاس چھ تولہ سونا اور 2ہزار نقد رقم ہیں اس عورت کے ذمہ 45ہزار کا قرضہ بھی ہیں اب کیا سال پورا ہونے پر اس عورت پر زکوة فرض ہوگی یا نہیں

جواب

 شریعت مطہرہ کی رو سے کسی شخص کے اوپر وجوب زکواۃ کے لیے ساڑھے سات تولے سونا ، یا ساڑھے باون تولے چاندی ، یا ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر نقدی یا مال تجارت کا مالک ہونا ضروری ہے، لیکن اگر ان میں سے کوئی نصاب بھی مکمل نہ ہو البتہ دو ناقص نصاب موجود ہوں،یعنی کچھ سونا اور چاندی ہو، یا اس کے ساتھ کچھ ما ل تجارت ہو، یا نقد رقم ہو، تو ایسی صورت میں ان کو باہم ملا کر دیکھا جائےگا کہ یہ نصاب تک پہنچتے ہیں یا نہیں؟ پھر ایسی صورت میں امام ابو حنیفہ ؒکے ہاں دونوں ناقص نصابوں کی قیمت باہم ملائی جائے گی، جبکہ صاحبین ؒ کے نزدیک قیمت کے بجاۓ اجزاء کے اعتبار سے باہم ملایا جائے گا، موجودہ دور میں ضم بالقیمۃ میں حرج کی وجہ سے ضم بالاجزاء کے طریقے پر جواب دینے میں امت کے لیے آسانی کی صورت پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہذا صورت مسٔولہ میں جس عورت کے پاس چھ تولے سونا ہو تو صاحب نصاب بننے کے لیے اس کے پاس ساڑھے دس تولے چاندی یا اس کے بقدر مالیت کا ہونا ضروری ہے، اگر اس خاتون کے پاس چھ تولے سونا اورصرف دو ہزار روپے ہوں، تو چونکہ دو ہزار روپے ساڑھے دس تولے چاندی کی قیمت کے برابر نہیں، نیز یہ عورت ۴۵ ہزار روپے کی قرضدار بھی ہے، اس لیے ضم بالاجزاء کی صورت میں اس عورت پر زکواۃ واجب نہیں۔

1:"أَمَّا الْأَوَّلُ فَكَمَالُ النِّصَابِ شَرْطُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ فَلَا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِيمَا دُونَ النِّصَابِ لِأَنَّهَا لَا تَجِبُ إلَّا على الْغَنِيِّ والغنى لَا يَحْصُلُ إلَّا بِالْمَالِ الْفَاضِلِ عن الْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ۔" (بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ، فصل فی بیان الشرائط التی ترجع الی المال، ج:2، ص:404، دارالکتب العلمیة)

2:"فَأَمَّا إذَا كان له ذَهَبٌ مُفْرَدٌ فَلَا شَيْءَ فيه حتى يَبْلُغَ عِشْرِينَ مِثْقَالًا فإذا بَلَغَ عِشْرِينَ مِثْقَالًا فَفِيهِ نِصْفُ مِثْقَالٍ۔"(بدائع الصنائع، کتاب الزکوٰۃ، فصل فیما اذا كان ذهبا مفردا، ج:2، ص:410، دارالکتب العلمیة)

3:"ويضم الذهب الى الفضة، والفضة الى الذهب، ويكمل احدى النصابين بالآخر عند علمائنا۔۔۔ ثم قال ابو حنيفة: يضم باعتبار القيمة۔۔۔ وقال ابويوسف و محمد: يضم باعتبار الاجزاء يعني بالوزن۔" ( الفتاوى التاتارخانية، كتاب الزكوة، فصل في زكوة المال، ج:3، ص:157، مكتبة رشيديه) 


فتویٰ نمبر : 8758/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور