بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
طالب علم اور یونیورسٹی کے مابین عقد
سوال
ایک سٹوڈنٹ یونیورسٹی کو جو فیس ادا کرتا ہے اور یونیورسٹی اس کے عوض پڑھائی ،کلاس رومز ،کمپیوٹر لیب ،بجلی وغیرہ سارے خدمات مہیا کرتی ہے ان دونوں فریقوں کے مابین کون سا عقد ہے ؟
جواب
کسی معلوم منفعت کے مقابلے میں کسی متعین عوض کا معاملہ کرنے کو اجارہ کہتے ہیں ۔جس میں ایک فریق کی طرف سے منفعت کی پیش کش ہو اور دوسرے کی طرف سے معاوضہ اور اجرت کی ۔مثلا ایک شخص کی طرف سے مکان ہو جس میں رہنے کی اجازت دی جائے اور دوسرے کی طرف سے اس کا کرایہ ادا ہو ،تو یہ "اجارہ "کہلائے گا ۔
صورت مسؤلہ میں اگر سٹوڈنٹ اور یونیورسٹی کے اہل کاروں کے درمیان یہ معاہدہ طے ہو جائے کہ یونیورسٹی کے اہل کار طلبہ کو خدمات (پڑھائی ،کلاس روم ،کمپیوٹر لیب ،بجلی وغیرہ ) فراہم کریں گے اور سٹوڈنٹس طے شدہ فیس ادا کریں گے تو شرعا یہ عقد "اجارہ "کہلاتا ہے جو کہ جائز ہے ۔
الإجارة عقد يرد على المنافع بعوض ۔(الهدایۃ،،کتاب الإجارات ،ج3ص297)
الإجارۃ ۔۔۔وفی اصطلاح الفقہاء :بیع المنفعۃ المعلومۃ فی مقابلۃ عوض معلوم ۔(شرح المجلۃ ،لخالد الاتاسی ،ج2 ص472،المادۃ 405)