بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شفیع کا حکم کے سامنے دعوی پیش کرنے سے طلب خصومت کا تحقق


سوال

کوئی شخص شرعی شفیع بنتا ہو اور شرعی طور پر طلب مواثبت و اشہاد بھی کر لے اور اس کے بعد علاقہ کے علماء کو حکم بنائے تاکہ وہ اس شفیع اور مشتری کے مابین شرعی اصول پر فیصلہ کریں لیکن مشتری اس نیت سے مجلس میں نہ بیٹھے کہ ٹال مٹول سے وقت گزر جائے گا اور شفعہ کی میعاد ختم ہو جائے گی ، چنانچہ شفعہ کی میعاد ختم ہونے کے بعد مشتری کہے کہ اب تو میعاد ختم ہو چکی ہے اور یہ کہ اس مدت میں شفیع نے عدالت کا دروازہ کیوں نہ کھٹکھٹا یااور عدالت سے رجوع کیوں نہ کیا۔چنانچہ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1۔شفیع کا عدالت کی بجائے علاقہ کے علماء کو حکم بناکر ان کے سامنے دعوی پیش کرنے سے طلب خصومت متحقق ہوگی یا نہیں؟

2۔کیا مشتری کا ٹال مٹول اور تاخیر کرنے سے شفیع کے حق شفعہ پر اثر پڑے گا یا نہیں؟

جواب

(1)واضح رہے کہ شفعہ میں طلب مواثبت اور اشھاد کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر قاضی کے ہاں طلب خصومت کرنا ضروری ہے البتہ اگر کوئی عذر ہو تو اس کی وجہ سے تاخیر کی اجازت ہے تاہم شفعہ میں اگر فریقین باہمی رضامندی  سے اپنے تنازع کو حل کرنے کے لئے عدالت کی بجائے علاقہ کے علماء کو حکم بنائیں تو ایسی صورت میں شفیع کا حکم کے سامنے اپنا دعوی پیش کرنے سے طلب خصومت متحقق ہو جائے گی لیکن اگر  حکم کے ذریعے فیصلہ کے لئے فریقین میں سے کسی ایک کی رضاو رغبت نہ ہو تو شفیع کو چاہئے کہ اپنے حق کی وصولیابی کے لئے عدالت سے رجوع کرے ،  ایسی صورت میں اگر شفیع  فریق ثانی کی رضامندی کے بغیر  علاقہ کے علماء  کے سامنے اپنا دعوی پیش  کر ے تو طلب خصومت متحقق نہ ہو گی اور ایک ماہ کی بلا عذر تاخیر کی صورت میں شفیع کا عدالت میں طلب خصومت کا حق بھی ساقط  ہو جائے گا۔

(2)شرعی نقطہ نظر سے شفعہ میں جب  طلب خصومت متحقق ہو جائے تو پھر شفیع کی موت تک اس کا حق شفعہ باطل نہیں ہو سکتا لہذا طلب خصومت کے تحقق کے بعد مشتری کی ٹال مٹول اور تاخیر  شفیع کے حق شفعہ کو متاثر نہیں کرتی۔

لو أخر الشفيع طلب الخصومة بعد طلب التقرير والإشهاد شهرا من دون عذر شرعي ككونه في ديار يسقط حق شفعته۔  (دررالحكام شرح مجلة الأحكام،المادة:1034،ج2،ص722)

ولو ترك الخصومة إن كان بعذر نحو مرض أو حبس أو غيره ولم يمكنه التوكيل لم تبطل شفعته ۔۔۔۔ وعن محمد وزفر رحمهما الله تعالى وهو رواية عن أبي يوسف رحمه الله تعالى إن أشهد وترك المخاصمة شهرا من غير عذر تبطل شفعته والفتوى على قولهما كذا في محيط السرخسي۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الشفعة،الباب الثالث،ج5،ص173)

قوله (صح لو في غير حد وقود الخ) شمل سائر المجتهدات من حقوق العباد ۔۔۔۔ قوله ( في كل المجتهدات) أي المسائل التي يسوغ فيها الاجتهاد من حقوق العبادكالطلاق والعتاق والكتابة والكفالة والشفعة والنفقة والديون والبيوع بخلاف ما خالف كتابا أو سنة وإجماعا۔ (رد المحتار،كتاب القاضي،باب التحكيم،ج8، ص127،128)


فتویٰ نمبر : 2800/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور