بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
ٹائنز کمپنی میں ملازمت کرنا
سوال
ٹائنز كمپنى ميں ملازمت كرنا شرعى لحاظ سے جائز ہے یا نہیں؟
جواب
ٹائنزکمپنی کے اہداف ومقاصد ، طریقہ کار اور شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ 1۔ٹائنز کمپنی کا ممبر بننے کے لیےاوّلامخصوص رقم اداكركے اس كى مصنوعات ميں سے كوئى چيز خريدنی پڑتی ہے، جس کے بغیر کوئی شخص ممبر نہیں بن سکتا ۔یہ شرط شرعی لحاظ سے درست نہیں، کیونکہ اس میں ایک معاملے کو دوسرے کے ساتھ مشروط کرنا لازم آتا ہے ، جو شرعاً جائز نہیں ۔2۔اسی طرح اس ممبر کے رجسٹریشن کی بنیاد پر جتنے آدمی بڑھتے جائیں گے ان کا منافع اور کمیشن اس کو ملتا رہے گا چاہے وہ بالواسطہ ہوں یا بلا واسطہ ، جبکہ بالواسطہ افراد کی خریداری پر کمیشن لینا شرعا جائز نہیں ، کیونکہ اس میں کوئی عمل دخل نہیں اور بغیر عمل کے کسی سے اجرت لینا جائز نہیں۔3۔علاوہ ازیں کمپنی کی طرف سے کمیشن ملنا پروڈکٹس کی ماہانہ خریداری کے ساتھ مشروط ہے ، یہ شرط بھی شرعا جائز نہیں ۔
ان تمام مفاسد کی بنا پر ٹائنز کمپنی کی ممبر شپ اختیار کرنا ، کمیشن لینا اور ان کے ساتھ ملازمت کرنا شرعا جائز نہیں۔
قال اللہ تعالی :يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة:90(
فلو جوزناہ لکان استحقاقا بغیر عمل ولم یرد بہ الشرع۔(الھدایۃ، کتاب المساقاۃ ، ج :4 ص: 430 مکتبہ حقانیہ)
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔(رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، فصل في البيع ، ج:9 ص:577)
الأمور بمقاصدها:يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على ماهو المقصود من ذلك الأمر۔(شرح المجلة، لسليم رستم باز، المقالة الثانية في بيان القوعد الفقهية، المادة:2 ص17 )