بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
حرام مال سے خلاصی کی صورت
سوال
مئی 2011 میں میرے درخواست پر آپ نے مجھے ایک فتوی بھیجا تھا اسی فتوی کے تحت میں نے بمعہ سسر پراپرٹی کا کام کیا جس میں تسلی بخش فائدہ ہوا۔لیکن اسی اثنا میں اسلام آباد میں کئی مفتیان کرام نے منافع کی بنیاد پر کام شروع کیا جس میں میرے سسر نے مجھ سے اپنا حصہ جو کہ خاصہ اچھا رقم تھا ،لیکر ان لوگوں کو دے دئے اور اسی طرح میرا وہی کام خراب ہوگیا۔کیونکہ میرے پاس تو بینک کے دیے ہوئے 3400000 روپے تھے تو اس وقت اس رقم سے یہاں پر 5مرلے پلاٹ بھی نہیں ملتا تھا تو میں نے باآمر مجبوری اس رقم پر سن2012میں 3مرلے والے پلاٹیں خریدیں۔بدقسمتی سے ان پلاٹوں پر حکومت کی طرف سے فروخت پر پابندی لگ گئی جو کہ سن2020 کےجون تک رہی اب چند ماہ سے فروخت شروع ہوگیا ہے جس میں چند دن پہلےمیرا ایک پلاٹ 900000 پر فروخت ہوااور یہی پلاٹ میں نے تقریبا 640000 روپے پر خریدا تھا۔تو آج مزید شرعی رہنمائی کے لیے چند سوالات بھیجتا ہوں۔(1)اس 900000 میں 260000 روپے صاف ہوگئے اور باقی 640000 تو وہی سودی رقم ہے۔تو میں چاہتا ہوں کہ یہی 640000 روپے بغیر نیت ثواب کے صدقہ کروں۔تو کیا میں ان 640000 روپے میں سے اپنے مسجد کے امام صاحب کے لیے موٹر خرید سکتا ہوں اور امام صاحب کے والدین بیمار ہیں ان کے علاج کے لیے 100000 روپے دے سکتا ہوں؟اسی طرح مدرسہ کے اساتذہ اور طلباء کے لیے موٹر سائیکلیں اور سائیکلیں خرید سکتا ہوں؟غریب لڑکیوں کے شادی کے جہیز کے لیے ہزاروں روپے دے سکتا ہوں؟(2)تبلیغی مرکز مردان اور مساجد میں باتھروم وغیرہ بنا سکتا ہوں؟یہ تو صرف ایک پلاٹ فروخت ہوا ہے اور اگر دوسرے فروخت ہوئے تو اسی سودی رقم سے بغیر نیت ثواب کے صدقہ کرکے مذکورہ بالا کام کراسکتا ہوں؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روسے حرام مال کو اصل مالک کی طرف لوٹانا ضروری ہے لیکن اگر اصل مالک معلوم نہ ہو تو پھر اس مال کو بلا نیت ثواب فقرا اور مساکین پر صدقہ کیا جائے گا۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگر کوئی شخص حرام مال کی طرف اشارہ کرکے اس کے عوض کوئی چیز خریدلے اور ادائیگی بھی اسی حرام مال سے کرےتو ایسی صورت میں وہ خریدی گئی چیز بھی حرام ہوگی اور اس کا نفع بھی حرام ہوگا اور دونوں کا بغیر نیت ثواب کے فقرا پر صدقہ کرنا واجب ہوگالیکن اگر مال حرام کی طرف اشارہ کیے بغیر کوئی چیز خرید کر حرام مال سے ادائیگی کرے اور پھر اس کو فروخت کرکے نفع کمائےتو اس صورت میں کمائے ہوئے نفع کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے تاہم اسی مقدار میں حرام مال کا صدقہ کرنا پھر بھی لازم ہے۔
صورت مسئولہ میں جب سائل نے حرام آمدنی کے3400000روپے سےمختلف پلاٹ خریدےجس میں سے ایک پلاٹ640000 روپےکا خریدا اور پھراس کو 900000 پر فروخت کیا توتمھید میں مذکور تفصیل کے مطابق اگر خریدتے وقت اس حرام مال کی طرف اشارہ نہیں کیا تھا (جیسا کہ عام طور پر خریداری میں رقم کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا)تو ایسی صورت میں سائل کے لیے اصل مال حرام640000روپےکے علاوہ منافع260000 روپےاستعمال کرناجائز ہےجب کہ اصل مال حرام 640000 روپےکا اگر مالک معلوم ہو تو اس کو لوٹانا واجب ہے لیکن اگر مالک معلوم نہ ہوتو بغیر نیت ثواب کے فقرا پر صدقہ کرے۔یہی حکم باقی پلاٹوں کا بھی ہے۔
(1)اگر سائل حرام مال سے اساتذہ،طلبا ء یا مسجد کے امام کے لیے موٹر سائیکل وغیرہ خریدنا چاہےتو دو شرطوں کے ساتھ خرید سکتا ہے(1)یہ افراد مستحق زکوۃ یعنی فقرا ہوں(2)موٹرسائیکل وغیرہ خریدنے کے بعد ان افراد کو اس چیز کا مالک بنائے۔
(2)جہاں تک مسجد کی ضروریات(باتھ روم،نلکے وغیرہ)میں حرام مال کے خرچ کرنے کا مسئلہ ہے تو اگر کوئی مستحق زکوۃ اس رقم کو قبول کرےاور پھر وہ اپنی رضامندی سے مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا چاہے تو خرچ کرسکتا ہے۔
وَالسَّبِيلُ في الْمَعَاصِي رَدُّهَا وَذَلِكَ هَاهُنَا بِرَدِّ الْمَأْخُوذِ إنْ تَمَكَّنَ من رَدِّهِ بِأَنْ عَرَفَ صَاحِبَهُ وَبِالتَّصَدُّقِ بِهِ إنْ لم يَعْرِفْهُ لِيَصِلَ إلَيْهِ نَفْعُ مَالِهِ إنْ كان لَا يَصِلُ إلَيْهِ عَيْنُ مَالِهِ۔(الفتاوی الهندية ج5 ص349)
لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبه۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،فصل فی البيع،ج9ص553)
(لأن تبدل الملك أوجب تبدلا في العين حكما)بدليل قصة بريرة رضي الله عنها۔۔۔قال عليه السلام:"هي لك صدقة،ولنا هدية"فثبت بهذا أن تبدل العين حكما،وهذا لأن تبدل الملك صفة له،وتبدل الصفة بتبدل العين شرعا،وإن كانت العين واحدة في أصلها۔(الكافي شرح البزدوي،باب في موجب الأمر في معنی العموم،ج1ص438)
(لو تصرف في المغصوب والوديعة)بأن باعه (وربح)فيه (إذا كان)ذلك (متعينا بالإشارة أو بالشراء بدراهم الوديعة أوالغصب ونقدها)يعنی يتصدق بربح حصل فيهما إذا كانا مما يتعين بالإشارة وإن كانا مما لا يتعين فعلی أربعة أوجه فإن أشار إليها ونقدها فكذلك يتصدق (وإن أشار إليها ونقد غيرها )أوأشار(إلی غيرها)ونقدها(أو أطلق)ولم يشر (ونقدها لا)يتصدق فی الصور الثلاث عند الكرخي قيل(وبه يفتی)(الدرالمختار،كتاب الغصب،ج6 ص189)