بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

آن لائن پراڈکٹ کی تصویر دکھا کر غیر مملوکہ اشیاء فروخت کرنا


سوال

مفتی صاحب آج کل آنلائن کاروبار کا زور شور ہے۔ فیس بک وغیرہ پر نامی گرامی لوگ اس طرح کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ (مثلا) میں آنلائن کاروبار کرتا ہو میرے قبضے میں کوئی چیز نہیں میں اپنے عزیز کے دکان جاتا ہوں وہاں سے اس کے طیب نفس سے آئٹم کی تصاویر لیتا ہوں اور ان سے اجازت آگے بیچنے کی اجازت لیتا ہوں۔ پھر میں فیس بک وغیرہ پر اس کی تصاویر لے کر گاہک کو وہ تصاویر دکھا کر سودا طے کرتا ہو۔ خیار عیب اور خیار رؤیت کا حق دیتا ہوں۔ پھر عزیز کے دکان جاکر ان سے وہ آئٹم خرید کر خریدار کو بھیج دیتا ہوں۔ ان کو مارکیٹ ریٹ دیتا ہو اور باقی پیسے اس کے طیب نفس سے رکھ لیتا ہو تو کیا یہ صورت صحیح ہے؟

اسی طرح DARAZ پر لوگ تصاویر دیکھ کر آرڈر بک کراتے ہیں حالانکہ ان کے قبضے میں آئٹم نہیں ہوتا اس کے بعد دراز والے دکان سے لیکر وہ بھیج دیتے ہیں۔ حالانکہ آرڈر یا سودا طے کرتے وقت وہ آئٹم ان کے ساتھ نہیں ہوتا۔ کیا یہ صورت صحیح ہے۔

جواب

خرید و فروخت میں شرعاً یہ لازم ہے کہ جن چیزوں کی خرید وفروخت  ہو رہی ہو معاملہ طے پاتے وقت وہ فروخت کنندہ کی ملکیت میں ہوں،ان کا وجود قطعی ویقینی ہو اور ان کی معدومیت (ناپیدگی) کا کوئی شائبہ نہ ہو ، معلوم و متعین ہواور  بائع کے قبضہ میں بھی ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق  آن لائن کاروبار میں اگر مبیع(جوچیزفروخت کی جارہی ہو)بیچنے والے کی ملکیت میں نہ ہو  اور وہ محض اشتہاریا تصویردکھاکر کسی کو وہ سامان فروخت کرے اور بعد میں وہ سامان کسی اور دکان،اسٹوروغیرہ سے خرید کردے تو یہ صورت جائز نہیں۔تاہم  اس کے جواز کی یہ صورت بن سکتی ہے کہ آن لائن کام کرنے والا فرد یا کمپنی  دکاندار کی جانب سے وکیل بالبیع بن جائے اور ان کے لئے وہ چیز فروخت کرے جبکہ اپنے لئے  کمیشن یا متعین اجرت کا معاہدہ کر لے  تو یہ صورت جائز ہو گی۔

ہماری معلومات کے مطابق دراز(Daraz) ایپ  میں  مذکورہ  ناجائز صورت کے علاوہ جائز صورتیں بھی موجود ہیں جیسا کہ بعض کمپنیوں کے اپنے ذاتی اکاؤنٹ ہوتے ہیں جو کہ اپنی مملوکہ اشیاء کی فروخت کرتے ہیں یا افراد اپنی مملوکہ چیزوں کو ہی فروخت کرتے ہیں چنانچہ مملوکہ اشیاء کی تصویر دکھا کر آن لائن فروخت کرنا شرعاً درست ہے ۔

عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَطْلُبُ مِنِّى الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِى أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم: لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ. (السنن الكبرى للبيهقي،باب من قال لايجوز بيع العين،ج5ص267)

ومنها أن يكون مملوكا لأن البيع تمليك فلا ينعقد فيما ليس بمملوك ۔۔۔ ومنها وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة وهذا بيع ما ليس عنده ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان ورخص في السلم۔ (بدائع الصنائع ،فصل واما الذی يرجع الی المعقود عليه،ج5ص147)


فتویٰ نمبر : 2801/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور