بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
حبان اور سحبان نام رکھنا
سوال
شریعت کی رو سے حبان اور سحبان نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب
ہر وہ نام جسے نبی کریمﷺ ، صحابہ کرامؓ یا قرون ماضیہ میں علماءو صلحاء نے استعمال کیا ہو یا وہ نام جو اسلامی معاشرہ میں رائج ہواور اس کا معنی غلط نہ ہو تو ایسا نام رکھنا جائز ہے۔
حبان(حاء کے فتحہ اور باء کی تشدید کے ساتھ) صحابہ کے ناموں میں سے ہے،"حبّان بن منقذ الخزرجيؓ" انصاری صحابی ہیں جو جنگ احد میں شریک تھے، اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ان کا انتقال ہوا۔ لہذا ان صحابی کی نسبت سے یہ نام رکھنا درست اور باعث برکت ہے۔
سحبان( سین کے فتحہ کے ساتھ) " سحبان بن وائل" قبیلہ وائل کے ایک مشہورفصیح و بلیغ خطیب تھے اور تاریخ ميں ان كا مشرف بہ اسلام ہونا بھی مذکور ہے ، چونکہ یہ نام پہلے سے اسلامی معاشرہ میں بھی مستعمل ہے لہذا یہ نام رکھنا درست ہے۔
حبان بفتح الحاء والباء الموحدة المشددة وآخره نون وهو حبان بن منقذ بن عمرو بن عطية بن خنساء بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن النجار الأنصاري الخزرجي المازني له صحبة وشهد أحدا وما بعدها۔ (اسد الغابة،ج1،ص231)
سحبان بن زفر بن إياس الوائلي،من باهلة: خطيب يضرب به المثل في البيان يقال (أخطب من سحبان) و (وأفصح من سحبان). اشتهر في الجاهلية وعاش زمنا في الاسلام. وكان إذا خطب يسيل عرقا، ولا يعيد كلمة، ولا يتوقف ولا يقعد حتى يفرغ. أسلم في زمن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يجتمع به (الأعلام للزركلي،ج3،ص79)