بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
صرف بیعانہ دے کر خریدی گئ زمین کو آگے فروخت کرنا
سوال
کیا یہ جائز ہے کہ ایک بندہ 20 لاکھ روپیہ کا پلاٹ خریدکر اس میں 2 لاکھ بیعانہ دیکر آگے فروخت کرے؟
جواب
واضح رہے کہ صحت بیع کے لیے مبیع کا مملوک ہونا اور بائع کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے چنانچہ اگر کوئی چیز بائع کی ملکیت یا قبضہ میں نہ ہو تو اسے فروخت کرنا جائز نہیں تاہم زمین اور جائیداد کی بیع کے لیے قبضہ شرط نہیں بلکہ قبل القبض فروخت کرنا جائز ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر بائع اور مشتری نے باقاعدہ ایجاب و قبول کرکے سودا طےکر لیا ہو اور زمین بھی متعین ہو اور بطور بیعانہ مشتری نے 2لاکھ روپے بھی دئیے ہو ں ليكن بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے مقررہ وقت طے کرلیا ہو تو اس صورت میں اگر مشتری نے بائع کی رضامندی سےزمین آگے فروخت کی ہوتو شرعا یہ بیع تام اور نافذ متصور ہوگی لیکن اگر مشتری نے پوری رقم ادا نہ کی ہو اور زمین بائع کی اجازت کے بغیر آگے فروخت کی ہوتو ایسی صورت میں بیع کا نفاذ اور لزوم بائع کی اجازت پر موقوف ہوگا .
للمشتري أن يبيع المبيع لأخر قبل قبضه ان كان عقارا(شرح المجلة ،خالد الأتاسي ،الباب الرابع ،الفصل الأول ج 2ص 173)
ويجوز بيع العقار قبل القبض ۔(الهداية،كتاب البيوع ،باب المرابحةوالتولية ج 3ص74)
( قوله : صح بيع عقار إلخ ) أي عندهما وقال محمد : لا يجوز وعبر بالصحة دون النفاذ واللزوم ؛ لأنهما موقوفان على نقد الثمن أو رضا البائع ۔(ردالمحتار على الدرالمختار كتاب البيوع ج4ص369)