بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
شفعہ سے بچنے کی خاطر قیمت زیادہ لکھنا
سوال
کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص شفعہ سے بچنے کی خاطر زمین کو اصل قیمت خرید سے زیادہ قیمت پر پٹوار خانے میں لکھ دے اور یہ نیت ہو کہ اگر شفیع نے شفعہ کیا تو زیادہ قیمت نہیں لوں گا تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب
شریعت نے نفسِ مبیع میں شریک ، حقِ مبیع میں شریک اور پڑوسی کو شفعہ کا حق دیا ہے اور کسی کا اس حق کو دھوکہ دہی یا دروغ گوئی سے تلف کرنا جائز نہیں۔
صورتِ مسؤلہ کے مطابق کسی شخص کا شفعہ سے بچنے کی خاطر زمین کی اصل قیمت ِ خرید سے زائد رقم پٹوار خانہ میں لکھ دینا دھوکہ اور دروغ گوئی کے زمرے میں داخل ہے اور شریعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کسی کے حق کو دھوکہ اور جھوٹ کی بنیاد پر اس سے چھین لیا جائے۔
عن جابر قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالشفعة في كل شركة لم تقسم ربعة أو حائط لا يحل له أن يبيع حتى يؤذن شريكه فإن شاء أخذ وإن شاء ترك فإذا باع ولم يؤذنه فهو أحق به۔ (الصحيح لمسلم،ج3،ص1229،حديث نمبر 1608)
عن عبادة بن الصامت أن رسول الله قضى أن لاضرر ولاضرار ۔الضرر خلاف النفع . والضرار من الإثنين فالمعنى ليس لأحد أن يضر صاحبه بوجه۔(سنن ابن ماجۃ، ج 2،ص 784،حدیث نمبر2340)