بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
عقد مضاربت کی ایک صورت
سوال
میں ایک ترکان ہوں صوفے ،میز اور بیڈ بناتا ہوں ایک شخص مجھے پیسے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ اس پر پرانا فرنیچر وغیرہ خریدا کریں اور اس میں کام کرکے آگے فروخت کیا کریں جو منافع حاصل ہو جائے اس کا 25فیصد منافع مجھے دیں اب وضاحت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسا عقد کرنا درست ہے یا نہیں ؟
جواب
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار عقد مضاربت کہلاتا ہے عقد مضاربت کے من جملہ شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ راس المال متعین ہو اور نفع کی تقسیم مضارب اور رب المال کے مابین فیصدی اعتبار سے مقررہو کسی ایک کے لیے نفع کی متعین مقدار مقرر کرنا درست نہیں ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر ترکان کو رقم باقاعدہ مضاربت کے طور پر دی ہو کہ سرما یہ دار کے سرمایہ سے ترکان فرنیچر خرید کر مرمت کرکے فروخت کرے گا تو یہ مضاربت کا عقد ہے جس میں مضاربت کے جملہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئے رب المال کے لیے 25فیصد نفع طے کرنا جائز ہے ۔
المضاربة نوع شركة على أن رأس المال من واحد،والسعي والعمل من آخر ۔(شرح المجلة لسليم رستم باز ،كتاب المضاربة الفصل الأول المادة :1404ص744)
ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح ۔۔۔لفساده فلعله لايربح إلا هذا القدر ۔(الهداية ،كتاب المضاربة ج 3 ص 263)