بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
الفاظ ”تم میرے اوپر طلاق ہو طلاق ” سے وقوع طلاق کا حکم
سوال
میں نے اپنے بیوی کو موبائل میسج کے ذریعے یہ ٹیکسٹ لکھا کہ "تم میرے اوپر طلاق ہو طلاق "اس کے بعد میں نے پانچ کچھ اور باتوں کی میسج سینڈ کیے اور چھٹا میسج کچھ یوں کیا کہ "تم اب حرام ہو میرے پاس "اور یہ جو میں نےمیسج کیا کہ "تم اب حرام ہو میرے پاس"یہ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کیا بلکہ ویسے ڈرانے کی نیت سے کیا کہ ٹھیک ہو جائے میرے ساتھ اور اپنے روئیے کو درست کرے ۔لہذا اب ان مذکورہ باتوں سے میرے نکاح کی کیا پوزیشن ہے ؟وضاحت فرمائیں ۔
جواب
جب كوئی شخص اپنی بیوی کو صریح الفاظ سےایک طلاق دے تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اس کے بعد عدت کے اندر خاوند بغیر نکاح کے رجوع کرسکتا ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق بائن دے تو بغیر نکاح کےخاوند رجوع نہیں کرسکتا۔
صورت مسؤلہ میں اگر واقعی سائل نے اپنی بیوی کو میسج میں یہ لکھاہو کہ "تم میرے اوپر طلاق ہو طلاق "تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ،اس کے بعدجب یہ میسج کيا کہ "تم اب حرام ہو میرے پاس "تو اگر ان الفاظ سے مرادمزیددوسری طلاق دینا ہو تو بیوی پر دوسری طلاق طلاق بائن واقع ہوگئی ہے ۔اب اگر دونوں دوبارہ رشتہ بحال کرنا چاہیں تو تجدید نکاح ضروری ہوگی۔
لیکن اگر ان الفاظ "تم اب حرام ہو میرے پاس "سے مقصوددوسری طلاق نہ ہو بلکہ یہ مقصود ہو کہ پہلی طلاق کی وجہ سے "تم اب حرام ہو میرے پاس "تو ایسی صورت میں دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ صرف ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوئی ہے،کیونکہ صریح لفظ میں بائن کی نیت درست نہیں ،لہذا اگر عدت کے اندر رجوع کرے تو نکاح برقرار رہے گا۔تاہم چونکہ لفظ "حرام"طلاق میں متعارف ہے اور فقہائے کرام اس میں طلاق بائن کا حکم دیتے ہیں اس لیے بہتر یہ ہے کہ احتیاطاً تجدید نکاح کیا جائے۔
( وَلَوْ قال أَنْت الطَّلَاقُ أو أَنْت طَالِقٌ الطَّلَاقَ أو أَنْت طَالِقٌ طَلَاقًا يَقَعُ وَاحِدَةً رَجْعِيَّةً بِلَا نِيَّةٍ أو نَوَى وَاحِدَةً أو ثِنْتَيْنِ فَإِنْ نَوَى ثَلَاثًا فَثَلَاثٌ ) (البحرالرائق كتاب الطلاق ،ج3ص452)
وَلَوْ قال لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ طَالِقٌ فقال له رَجُلٌ ما قُلْتَ فقال طَلَّقْتُهَا أو قال قلت هِيَ طَالِقٌ فَهِيَ وَاحِدَةٌ في الْقَضَاءِ لِأَنَّ كَلَامَهُ انْصَرَفَ إلَى الْإِخْبَارِ بِقَرِينَةِ الِاسْتِخْبَارِ (بدائع الصنائع ،كتاب الطلاق ،ج4ص224)
الطَّلَاقِ الصَّرِيحِ وهو كَأَنْتِ طَالِقٌ وَمُطَلَّقَةٌ وَطَلَّقْتُك وَتَقَعُ وَاحِدَةٌ رَجْعِيَّةٌ وَإِنْ نَوَى الْأَكْثَرَ أو الْإِبَانَةَ أو لم يَنْوِ شيئا كَذَا في الْكَنْزِ۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الطلاق،الباب الثاني ،الفصل الاول في الطلاق الصريح ج1ص354)