بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کرسی کے ساتھ لگے ہوئے تختہ پر سجدہ کرنا


سوال

آج کل اکثر مساجد میں وہ کرسیاں پڑی ہوئی ہوتی ہیں کہ جن کے ساتھ ایک لکڑی لگی ہوئی ہوتی ہے اور لوگ اس پر سجدہ کرتے ہیں کیا اس پر سجدہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

نماز کے ارکان میں سے سجدہ ایک اہم رکن ہے کیونکہ اس میں نماز کا مقصد یعنی خشوع،خضوع اور عاجزی وانکساری بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔البتہ جو شخص رکوع اور سجدہ ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے لیے رکوع اور سجدہ اشارے سے ادا کرنے کی گنجائش ہے اور اس کو اس بات کا بھی اختیار ہے کہ اگر چاہے تو کھڑے ہو کر اشارے سے رکوع اور سجدہ کرے یا بیٹھ کر،لیکن بیٹھ کر اشارے سے ادا کرنا بہتر ہے،کیونکہ بیٹھنے کی حالت سجدہ کے زیادہ قریب ہے،نیز جس طرح کھڑے ہوکر اشارے سےنماز پڑھنا جائز ہے اس طرح کرسی پر بیٹھ کر بھی اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے۔

صورت مسئولہ میں جو شخص رکوع اور سجدہ پر قادر ہو تو ایسے شخص کے لیے کرسی کے تختہ پر سجدہ کرنا جائز نہیں،لہذا کرسی کے تختہ پر سر رکھنے سے سجدہ ادا نہ ہوگا۔زمین پر سجدہ کرنا ضروری ہے۔تاہم جس شخص کو سجدہ پر قدرت نہ ہو اس کا تختہ پر پیشانی رکھنا سجدہ نہیں اس لیے وہ اشارہ سے سجدہ کرے۔تختہ پر سر رکھنا ضروری نہیں۔

 عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَادَ مَرِيضًا ، فَرَآهُ يُصَلِّى عَلَى وِسَادَةٍ ، فَأَخَذَهَا فَرَمَى بِهَا ، فَأَخَذَ عُودًا لَيُصَلِّىَ عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ فَرَمَى بِهِ وَقَالَ : صَلِّ عَلَى الأَرْضِ إِنِ اسْتَطَعْتَ ، وَإِلاَّ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً ، وَاجْعَلْ سُجُودَكَ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِكَ۔(السنن الکبری للبیھقی،کتاب الصلوۃ،رقم:3819)

لو كان الشَّيْءُ الْمَوْضُوعُ بِحَالٍ لو سَجَدَعليه الصَّحِيحُ تَجُوزُ، جَازَ لِلْمَرِيضِ على أَنَّهُ سُجُودٌ ،وَإِنْ لم يَجُزْ لِلصَّحِيحِ أَنْ يَسْجُدَ عليه فَهُوَ إيمَاءٌ فَيَجُوزُ لِلْمَرِيضِ إنْ لم يَقْدِرْ على السُّجُودِ۔(تبیین الحقائق،کتاب الصلوۃ،باب صلوۃ المریض،ج1ص:201)


فتویٰ نمبر : 8752/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور