بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عقداجارہ /عقد مساقات کے بعد مالک زمین سے خدمت لینے کا حکم


سوال

باغات  کے درختوں کو اجارہ پر دینا چونکہ ناجائز ہے اور اس کا شرعی حل یہ بتایا گیا ہے  کہ زمین کو اجارہ پر دے دواور باغات کے درختوں کو مساقاۃ پر ۔اب اجارہ اورمساقاۃ پر لینے والا شخص  چونکہ اکثرٹھکیدار اور  مالدار ہوتا ہےاور  درختوں کی دیکھ بھال خود نہیں کرتا اب سوال یہ ہے کہ  (1) کیا  مستاجراس مؤجر کو دوبارہ یہ زمین کاشت کیلئے دے سکتاہے یا نہیں ؟(2) مساقات کی خدمت زمین کے مالک پر لازم  کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟(3)اگرمساقاۃمیں  زمین کا مالک  عمل نہ کرے  تو کیا مستاجر  اس سے  اجارہ  کی رقم  میں سے کٹوتی کر سکتا یا نہیں ؟(4)عقد مساقات کے بعد مساقی (مساقات پر باغ لینے والا)مالک  زمین  کو  نئے عقد کے ساتھ  اجیر رکھ سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے درختوں کو اجارہ پر دینا  جائز نہیں اس لیے کہ اس میں استہلاک عین ہے جبکہ اجارہ کا مقصد عین کو باقی رکھتے ہوئے نفع حاصل کرنا ہے ۔البتہ اس کا یہ جائز طریقہ ممکن ہے  کہ اس زمین میں موجود درخت اگر پھلدار ہوں تووہ "مساقاۃ" کے طور پر اسی  شخص کو دئیے جائیں جسے زمین بطور کرایہ دینا مقصود ہو اور مساقاۃ کا معاملہ طے ہو جانے کے بعد ایک الگ عقد کے ذریعے اس کو زمین متعین اجرت  کے بدلے کرایہ پر دی جائے ایسی صورت میں یہ دونوں معاملات اسی ترتیب سے انجام دینا ضروری ہوگا  کہ پہلے مساقاۃ کا معاملہ کیا جائے اس کے بعد اجارہ کا ،نیز یہ دونوں الگ الگ عقد ہوں گے۔ اجارہ کی رو  سے کرایہ دار پر کرایہ لازم ہوگا اور مساقاۃ کی روسے باغ کا مالک اور مساقاۃ پر لینے والا ، باغ کے پھلوں میں اپنے اپنے طے شدہ حصے کا حقدار ہوگا ۔

                صورت مسؤلہ میں (1)اگر کوئی شخص مذکورہ بالا طریقہ سے کسی کے ساتھ پہلے عقد مساقاۃ کرے اور پھر وہی زمین اجارہ پر لے لےتو  شرعا یہ جائز ہے ،لیکن اس کے بعد مستاجر کیلئےجائز نہیں کہ  دوبارہ وہی زمین مالک کو اجارہ پر دے دے اس لیے کہ اس زمین پر پہلے سے مالک کی ملکیت ہے اور شرعا  مالک پر اپنی ملکیت کے منافع فروخت کرنا جائز نہیں ۔تاہم اگر مستاجر (زمین اجارہ پر لینے والا )نئے عقد اورمتعین تنخواہ کے ساتھ موجر( زمین کے مالک) کو کاشت کاری کے واسطے  اجیر رکھے  یا زمین کا مالک اپنی رضامندی سےبلا اشتراط اور   بلامعاوضہ کاشت کاری میں مستاجر کے ساتھ تعاون کرے  تو اس کی گنجائش ہے ۔

(2)عقد مساقاۃ میں  چونکہ عمل  عامل (مساقاۃ پر باغ لینے والے شخص) کی ذمہ داری ہے لہذا عقد مساقاۃ کی وجہ سے  عامل ،زمین  کے مالک پرعمل لازم نہیں کرسکتاورنہ  اس سے یہ عقد فاسد ہوگا ۔

(3)چونکہ عقد مساقاۃ میں عمل عامل کے ذمے ہوتا ہے لہذا  اگر زمین کے مالک نے مساقاۃ پر باغ دینے کے بعد عمل نہ کیا ہو تو اس کی وجہ سے مستاجر مقررہ کرایہ میں سے رقم  نہیں کاٹ سکتا ۔

(4)اگر عامل مساقاۃ  کے عمل کیلئےایک مستقل نئے عقد سے زمین کے مالک کواجیر رکھے   یعنی متعین مدت کیلئے متعین اجرت  کے بدلے زمین کے مالک سے اسی باغ کی  خدمت لینا چاہے تو مالک زمین کی رضامندی   سے یہ عقد اجارہ جائز ہوگا  اور اس صورت میں دونوں کے درمیان ہو نے والا یہ عقد" اجارۃالاشخاص" کی صورت ہوگی ۔

  قال ( ولا يجوز بيع المراعي ولا إجارتها ) المراد الكلأ ، أما البيع فلأنه ورد على ما لا يملكه لاشتراك الناس فيه بالحديث ، وأما الإجارة فلأنها عقدت على استهلاك عين مباح ، ولو عقد على استهلاك عين مملوك بأن استأجر بقرة ليشرب لبنها لا يجوز فهذا أولى .(الھدایۃ،ج3ص54)

وفي فتاوى الحانوتي التنصيص في الإجارة على بياض الأرض لا يفيد الصحة حيث تقدم عقد الإجارة على عقد المساقاة أما إذا تقدم عقد المساقاة بشروطه كانت الإجارة صحيحة۔(ردالمحتار ،كتاب الاجارة،ج6ص8)

عن محمد رحمه الله تعالى أن الإجارة من المالك لا تجوز مطلقا تخلل الثالث أو لا وبه قال عامة المشايخ وهو الصحيح وعليه الفتوى۔(الفتاوى الهندية،كتاب الاجارة،الباب السابع ج4ص457)

الباب الثانی فی احکام المساقاۃ :اما الاول فکل عمل یحتاج الیہ الثمار لزیادتھا او صلاح ثمرھا ویتکرر کل سنۃفہو علی العامل ۔(البنایۃ فی شرح الھدایۃ،کتاب المساقاۃ،ج10 ص615)

ومن الشرائط ان یخلي رب الارض والنخیل بین الارض والنخیل وبین المزارع والعامل حتی اذا شرط فی العقد بما ینعدم بہ التخلیۃ بین الارض وبین المزارع (اومع  المعامل)لا یجوز ۔(الفتاوی التاتارخانیۃ،کتاب المزارعۃوالمعاملۃ،الفصل :1،ج17ص228)

إنها نوعان نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور والأراضي والدواب والثياب وما أشبه ذلك ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك۔(الفتاوى الهندية،كتاب الاجارة،الباب الاول ج4ص411)

المستأجر إذا استأجر صاحب الأرض ليعمل في هذه الأرض بشيء معلوم جاز كذا في فتاوى قاضي خان۔(ايضا،كتاب الاجارة،الباب السابع في اجارة المستاجر ،ج4ص458)


فتویٰ نمبر : 2794/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور