بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
حرام مال سے خلاصی کی صورت
سوال
سود وغیرہ کے ذریعے سے جو حرام رقم کمایا ہے اور اسے خرچ کیا ہے اس حرام رقم کے استعمال کے گناہ سے ہم کس طرح چھٹکارا پا سکتے ہیں: (1)اگر وہ حرام رقم ہمارے پاس موجود ہو تو اس سے خلاصی حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے (2)اگر اس حرام مال پر کاروبار کیا ہوتو اس کا کیا حکم ہے ؟(3)اسی طرح اگر ہم نے حرام مال سے کوئی عمارت بنائی ہوتب خلاصی کی کیا صورت ہو گی ؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے حرام مال کو اصل مالک کی طرف لوٹانا ضروری ہے لیکن اگر اصل مالک معلوم نہ ہو تو پھر اس مال کو بلا نیت ثواب فقرا اور مساکین پرصدقہ کرنا ضروری ہے ۔
صورت مسؤلہ میں (1)اگر کسی کے پاس حرام مال موجود ہو تو اگر اصل مالک معلوم ہو جس سے اس نے یہ ناحق مال لیا ہے تب تو اس کو یہ رقم لوٹانا ضروری ہے لیکن اگر اصل مالک معلوم نہ ہو تو خلاصی کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ گزشتہ گناہ پر پشیماں اور نادم ہو کر استغفار کرے اور اس حرام مال کو بغیر نیت ثواب کے فقرا پر صدقہ کرے ۔
(2)اگر کسی شخص نے حرام مال کی طرف اشارہ کرکے کوئی چیز خریدی ہو اور ادائیگی بھی اس مشارالیہ حرام مال سے کی ہو تو ایسی صورت میں اصل مال حرام کی طرح اس کی آمدنی بھی حرام ہے اور دونوں کا بغیر نیت ثواب کے فقرا پر صدقہ کرنا واجب ہو گا ،لیکن اگر مال حرام کی طرف اشارہ کیے بغیر اس مال سے کچھ خریدا تو اس صورت میں کمائے ہوئے نفع کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے تاہم اصل مال حرام کا صدقہ کرنا پھر بھی لازم ہے ۔
(3)اگر حرام رقم سے گھر وغیرہ کی تعمیر کی ہو تو توبہ کرکے جتنا حرام پیسہ اس میں استعمال کیا ہے حساب لگا کر اتنی ہی رقم اصل مالک کو لوٹا دے ،لیکن اگر اصل مالک معلوم نہ ہوتو حرام مال کے بقدر رقم بلانیت ثواب فقرا اور مساکین پرصدقہ کرے ۔
والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله۔(الفتاوى الهندية،ج5ص349)
(لو تصرف في المغصوب والوديعة ) بأن باعه ( وربح ) فيه ( إذا كان ) ذلك ( متعينا بالإشارة أو بالشراء بدراهم الوديعة أو الغصب ونقدها ) يعني يتصدق بربح حصل فيهما إذا كانا مما يتعين بالإشارة وإن كانا مما لا يتعين فعلى أربعة أوجه فإن أشار إليها ونقدها فكذلك يتصدق ( وإن أشار إليها ونقد غيرها أو ) أشار ( إلى غيرها ) ونقدها ( أو أطلق ) ولم يشر ( ونقدها لا ) یتصدق في الصور الثلاث عند الكرخي قيل ( وبه يفتى )۔(الدر المختار ،كتاب الغصب،ج6ص189)