بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عورت میں نحوست کا عقیدہ رکھنا


سوال

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عورت گھر میں آتی ہے تو بہت ساری برکات (مال وغیرہ ) لے آتی ہے جبکہ بعض عورت جب گھر میں آتی ہے (بیاہی جاتی ہے) تو بہت سارے مسائل اور مصیبتوں کو ساتھ لاتی ہے تو لوگ اس کو عورت کی نحوست سمجھتے ہیں شریعت میں اس کی اصل کیا ہے ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے کسی چیز ،وقت یا انسان میں نحوست  سمجھنا یا کوئی بدفالی لینا جائز نہیں۔ یہ ایک غلط اور  باطل عقیدہ ہےجو دور نبوی  سے بھی  پہلے سے  چلا آرہا ہے ۔ کئی احادیث مبارکہ میں اس باطل عقیدےکی  نفی کی  گئی ہے۔ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ"  اگر کسی  چیز میں نحوست ہوتی  تو  عورت ،گھر اور گھوڑے میں ہوتی  "محدثین کرام فرماتے ہیں  کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہےکہ  جب ان تینوں میں نہیں تو کسی چیز  میں بھی نہیں ۔لہذاصورت مسئولہ میں کسی عورت  کے ساتھ  مصیبتوں کے  آنے  کا عقیدہ رکھنا یا کسی عورت کو منحوس سمجھنا ایک غلط اور باطل عقیدہ ہے  اس سے اجتناب ضروری ہے ۔

عن أبي سعيد ؓ  عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لا طيرة ثم قال إن تكن الطيرة في شيء ففي المرأة والفرس والدار فلم يخبر أنها فيهن وإنما قال إن تكن في شيء ففيهن أي لو كانت تكون في شيء لكانت في هؤلاء فإذا لم تكن في هؤلاء الثلاثة فليست في شيء۔(شرح معانی الآثار للطحاوی ج4 ص414)

قال الخطابی :ھذہ الاشیاء الثلاثۃ لیس لھا بانفسھا وطباعھا فعل وتاثیر ،وانما ذلک  کلہ بمشیئۃ اللہ وقضائہ (مرقاۃ المفاتیح ،کتاب النکاح ج6 ص269)


فتویٰ نمبر : 4570/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور