بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ٹریفک پولیس کا مالی جرمانہ لینا


سوال

حکومت وقت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنےپر جن گاڑیوں کوجرمانہ کرتےہیں۔شرعایہ جرمانہ لیناکیساہے؟فقہ حنفی میں مفتی بہ قول کےمطابق تعزیربالمال جائزنہیں۔

جواب

واضح رہے کہ  تعزیر بالمال (مالی جرمانے)کے جواز میں فقہاے کرام کا اختلاف ہے  ، فقہاےاحناف میں سے اکثر کے ہاں تعزیر بالمال جائز نہیں البتہ  امام ابویوسفؒ سےاس کا جواز منقول ہےاورموجودہ حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بعض انتظامی امور میں مالی جرمانہ مقرر کیا جائے کیونکہ ہرجرم پر بدنی سزا سے لوگ مشقت میں پڑ جائیں گے جو تنفیر کا سبب بنے گا۔اور بسا اوقات بدنی سزا سےکسی جرم کی روک تھام نہیں ہوسکتی لیکن مالی سزا کی بدولت روک تھام ہوجاتی ہے،لہذاان حالات میں امام ابویوسفؒ کے قول سے استفادہ کرتے  ہوئے اس کے جواز کی گنجائش دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں حکومت کا ،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر تعزیربالمال کی صورت میں مالی جرمانہ لگانا جائزہے۔

رُوِيَ عن أبي يُوسُفَ أَنَّ التَّعْزِيرَ من السُّلْطَانِ بِأَخْذِ الْمَالِ جَائِزٌ.(البحرالرائق، كتاب الحدود، باب حدالقذف،فصل في التعزير،ج5ص68)

ويجوز التعزير بأخذالمال،وهومذهب أبى يوسف وبه قال مالك،ومن قال:إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلاواستدلالا،وليس بسهل دعوى نسخها،وفعل الخلفاء الراشدين وأكابرالصحابةلهابعدموتهﷺ مبطل لدعوى نسخها والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولاإجماع يصح دعواهم. (معين الحكام ص231)


فتویٰ نمبر : 4571/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور