بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لفظ" چھوڑنا"سے طلاق کا حکم


سوال

حضرت ایک عمومی سوال کے طور پر عرض ہے کہ آیا لفظ ‘‘چھوڑنا طلاق صریح کے حکم میں ہے یا کنایہ کے حکم میں اس میں اپنی رائے سے آگاہ فرماکر مشکور فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ جو کنائی لفظ کسی عرف میں صرف طلاق  ہی میں متعارف ہو لیکن اس میں مکمل علیحدگی اور حرمت کا معنی نہ ہو نیز وہ لفظ بولتے وقت ایسا کوئی لفظ یا جملہ بھی نہ بولا جائے جو اس کے معنی میں شدت اور سختی پیدا کرے تو ملحق بالصریح ہونے کی وجہ سے ایسے کنائی لفظ سے بھی طلاق رجعی واقع ہوگی لفظ "چھوڑنا "بھی ایسا ہی لفظ ہے کہ جس علاقہ کے عرف  میں یہ لفظ طلاق ہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہو اور اس سے طلاق ہی مراد لیا جاتا ہو نیز قرینہ بھی پایا جائے تو طلاق صریح کی طرح اس لفظ میں بھی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اس سے طلاق رجعی واقع ہوگی ۔

ومن المتأخرين كانوا يفتون بأن لفظ التسريح بمنزلة الصريح يقع به طلاق رجعي بدون النية ۔(البحر الرائق ، كتاب الطلاق ،باب الكنايات ،قوله سرحتك ،فارقتك ج 3 ص 524)

فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت۔(رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الطلاق ،باب الكنايات ج4ص530)


فتویٰ نمبر : 6205/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور