بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
والد کا زندگی میں اولاد پر مال تقسیم کرنا
سوال
اگر باپ اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتا ہو تو کیا بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان برابری سے تقسیم کریگا یا بیٹے کو 2 اور بیٹی کو 1 حصہ دے سکتا ہے ؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے میراث ، مورِث کی موت کے بعد تقسیم ہوتی ہے جس کے تمام اصول قرآن و حدیث میں بیان کرکے ہر وارث کا حصہ متعین کر دیا گیا ہے ۔ ان اصول کے مطابق مورِث کی موت کے بعد اس کے بیٹے کو بیٹی کا دگنا حصہ ملتا ہے۔ تا ہم اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہے تو خواہ وہ اپنی تمام اولاد کے درمیان برابری سے تقسیم کرے ،یا بعض اولاد کو کم اور بعض کو زیادہ حصہ دے ، یہ تقسیم نافذ ہوگی۔ البتہ زندگی میں بہتر یہی ہے کہ تمام اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں ) کو برابر حصہ دیا جائے کیوں کہ زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا شرعا ہبہ کے حکم میں داخل ہے ، اور ہبہ کے معاملے میں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ البتہ کسی ایسے ترجیحی سلوک کی گنجائش ہے، جس کی اجازت شریعت نے دی ہو ، مثلا : کوئی بچہ معذور ہو ، یا زیادہ محتا ج ہو، یا زیادہ تابع داراور خدمت گزار ہو، یا زیادہ دین دار ہو ؛ تو ایسی صورت میں ترجیحی سلوک مرخص ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق جب باپ حالتِ حیات میں اپنی اولاد پر اپنا مال تقسیم کرنا چاہتا ہے تو چونکہ شرعا یہ ہبہ کے حکم میں داخل ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دےدے۔ تا ہم جس ترجیحی سلوک کی اجازت شریعت نے دی ہو ، مثلا: کوئی بچہ معذور ہو، زیادہ محتاج ہو، زیادہ دین دار ہو ، یا زیادہ تابع دار اور خدمت گزار ہو تو ایسی صورت میں ترجیحی سلوک کر کے اس بچے کو زیادہ حصہ دینے کی شرعا اجازت ہے۔ البتہ اگر بعض اولاد کو ترجیح دے کر دوسرے بچوں کو نقصان پہنچانا مقصود ہو تو اس صورت میں ترجیحی سلوک ناجائز ہوگا۔
وَيَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْدِلَ بين أَوْلَادِهِ في النَّحْلَى لِقَوْلِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى ﴿ إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ ﴾۔ (بدائع الصنائع،کتاب الھبۃ:113/8 )
وَلَوْ وَهَبَ شَيْئًا لِأَوْلَادِهِ فِي الصِّحَّةِ، وَأَرَادَ تَفْضِيلَ الْبَعْضِ عَلَى الْبَعْضِ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ لَا بَأْسَ بِهِ إذَا كَانَ التَّفْضِيلُ لِزِيَادَةِ فَضْلٍ فِي الدِّينِ وَإِنْ كَانُوا سَوَاءً يُكْرَهُ وَرَوَى الْمُعَلَّى عَنْ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ إذَا لَمْ يَقْصِدْ الْإِضْرَارَ وَإِلَّا سَوَّى بَيْنَهُمْ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى۔ (ردالمحتار علی درالمختار، مطلب مہم فی قول الواقف علی الفریضۃ الشرعیۃ،664/6)
وفي الْخُلَاصَةِ الْمُخْتَارُ التَّسْوِيَةُ بين الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى في الْهِبَةِ ۔ (البحر الرائق،کتاب الہبۃ:490/7 )
وذهب الجمهور إلى أن التسوية مستحبة فإن فضل بعضا صح وكره۔ ( فتح الباری ،کتاب الہبۃ وفضلہا ، باب الاشہاد فی الہبۃ : 530/5)