بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کرنسیوں کی خرید و فروخت میں قبضہ،ادھار اور وعدہ بیع کی تفصیل


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں:

(1)ایک پاکستانی تاجر کو ایران سے تجارتی مال درآمد کرنے کے لئے ایرانی ریال کی ضرورت ہوتی ہےوہ پاکستان ہی میں موجود ایک اور شخص سے ایرانی ریال پاکستانی روپوں کے بدلے خریدتا ہے ، جب ایجاب و قبول ہوجاتا ہے تو ایرانی ریال فروخت کرنے والا شخص اپنے اکاؤنٹ سے خریدار کے بتائے ہوئے اس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر نے کے بعد ریال فروخت کرنے والا ریال خریدنے والے سے پاکستانی روپے وصول کرتا ہے چیک کے ذریعے یا نقد کی صورت میں۔   چونکہ کرنسیوں کی خرید و فروخت کے یہ عقود عموما واٹس ایپ کے ذریعے انجام پاتے ہیں اس لئے مجلس عقد میں نہ تو بدلین پر قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی احد البدلین پر البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ایجاب و قبول ہوتے ہی فروخت کنندہ ریال ٹرانسفر کرنے کے عمل میں لگ جاتا ہے اس میں تاخیر نہیں کرتا لیکن کبھی انتظامی عوارض کی وجہ سے ٹرانسفر میں دو تین گھنٹے تاخیر ہوجاتی ہے بلکہ بعض اوقات عقد ایسے وقت میں مکمل ہوتا ہے کہ بینک بند ہو چکے ہوتے ہیں تو مجبوراً اگلے دن تک ٹرانسفر مؤخر ہوجاتا ہے۔ احد البدلین پر قبضہ کرنا جس مفہوم کے ساتھ کتب فقہ میں مذکور ہے کہ مجلس عقد میں ایک جانب سے حقیقتاً قبض بالید ہونا چاہئے ، وہ جب یہاں ممکن نہیں بلکہ بینک تک جانے ،وہاں رسید لکھنے ،لائن میں کھڑے رہنے جیسے مراحل کی وجہ سے کسی جانب سے بھی قبضہ نہیں ہو پاتا تو اس تاخیر سے یہ عقد بیع الکالی بالکالی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ بالفاظ دیگر جب کرنسیوں کا کاروبار آن لائن کاروبار بن گیا ہے تو کیا احد البدلین پر قبضہ کرنے کا وہی مفہوم ماناجائے جو کتب فقہ میں مذکور ہے یا پھر اس میں وسعت و گنجائش پائی جاتی ہے؟

(2)کبھی کبھار خود ریال فروخت کنندہ کے پاس ریال نہیں ہوتے بلکہ عقد کی تکمیل ے بعد کسی اور سے خریدنے میں لگ جاتا ہے اس صورت میں اگر چہ فروخت کنندہ کے پاس ریال نہیں ہوتے لیکن کسی اور سے ملنے کا تقریباً یقین ہوتا ہے چنانچہ ایجاب و قبول کے بعد کے بعدبائع فوراً کسی اور شخص سے ریال خریدکر مشتری کو ٹرانسفر کرنے میں لگ جاتا ہےکیا ریال فروخت کرنے کی یہ صورت جائز ہے؟

(3)کرنسی کی خرید و فروخت کی ایک صورت ادھار کی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ریال خریدنے والے کو عقد ہی کے دن ریال ٹرانسفر کیا جاتا ہے لیکن خریدار اس کی قیمت پاکستانی روپےمیں پانچ ، دس دن بعد ادا کرتا ہے ، ادھار دینے کی وجہ سے تاجروں کے عرف کے مطابق ریال عام بازاری قیمت سے مہنگا فروخت کیا جاتا ہے ، اس صورت کا شرعاً کیا حکم ہے؟

(4)بسا اوقات ایجاب و قبول کے وقت ہی بائع و مشتری کے درمیان یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ ریال کا ٹرانسفر اگلے دن کیا جائے گا اس لئے کہ اگلے دن ریال کم قیمت پر ملنے کا امکان ہوتا ہے ، یہ صورت باقاعدہ عقد شمار ہوگی یا اس کو وعدہ عقد قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کی شرعا گنجائش ہو سکتی ہے یا نہیں؟

(5)واضح رہے کہ مذکورہ بالا صورتیں کرنسیوں کے تجار کے تقریبا اسی فیصد سے زائد طبقہ میں رائج ہیں اور ان طریقوں سے بچ کر معاملہ کرنا تقریبا محال ہے ، تو اتنے بڑے طبقہ کا یہ تعامل شرعی تعامل شمار ہوسکتا ہے یا نہیں ، نیز مذکورہ بالا صورتوں میں جو ناجائز صورت ہو اس کی متبادل جائز صورت بھی ذکر کریں؟

جواب

ایک ہی ملک کی کرنسی کےباہمی تبادلہ کے لئے جانبین میں برابری لازم ہے اور کمی بیشی جائز نہیں جبکہ مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا باہمی تبادلہ کمی زیادتی کے ساتھ بھی جائز ہے  چونکہ مروجہ کرنسی ثمن خلقی نہیں بلکہ ثمن عرفی ہے اس لئے مجلس عقد میں دونوں کرنسیوں کی بجائے کسی ایک کرنسی  پر قبضہ ضروری ہے  تاکہ ادھار کے بدلہ ادھار کی بیع لازم نہ آئے۔ صورت مسئولہ میں:

(1) بائع و مشتری کے مابین عقد  طے  ہو جانے کے بعد  اگر   مجلس عقد میں احد البدلین پر قبضہ نہ پایا جائے تو ایسی صورت میں یہ عقد  بیع الکالی بالکالی (ادھار کے بدلہ ادھار) کے زمرہ میں داخل ہو کر جائز نہیں ہوگا لہذا مختلف ممالک کی کرنسیوں کے تبادلہ کے لئے عاقدین پر لازم ہے کہ مجلس عقد  میں کسی ایک کرنسی پر ضرور قبضہ ہو۔

(2) بیع و شراء کے انعقاد کی شرائط میں سے  ایک یہ ہے کہ عقد کے وقت معقود علیہ بائع کی ملکیت  یا ولایت میں ہو اور معقود علیہ موجود ہو معدوم نہ ہو چنانچہ کرنسی کے باہم تبادلہ کے وقت اگر فروخت کنندہ کی ملکیت میں وہ کرنسی نہ ہو اور صرف اس یقین پر وہ  مشتری کے ساتھ عقد کرے کہ مجھے یہ کرنسی مل جائے گی اور میں مشتری کو حوالہ کر دونگا تو   معقود علیہ (کرنسی)  ملکیت میں نہ ہونے کی وجہ سے  بیع درست نہ ہوگی البتہ اگر صرف وعدہ بیع کر کے مطلوبہ کرنسی پر قبضہ حاصل ہونے کے بعد اس کی بیع کی جائے تو یہ جائز ہوگا۔

(3) مذکورہ صورت میں جب ایک کرنسی کی ادائیگی قسطوار طے ہو اور دوسری کرنسی پر قبضہ بھی اسی مجلس کے اندر نہ ہو تو دونوں جانب سے قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت بھی جائز نہیں۔

 (4) مستقبل میں کسی چیز کےخریدنے یا  فروخت کرنے کا کسی سے وعدہ کرنا اس طور پر کہ اسے  ابھی سے لازم نہ سمجھا جائے  اور بائع  ثمن میں جبکہ  مشتری  مبیع میں باقاعدہ بیع سے پہلےکسی قسم کے تصرف   کا حق نہ رکھتے ہوں تو یہ وعدہ بیع کہلاتا ہے،لہذا  اگر بائع و مشتری آپس میں عقد نہ کریں بلکہ بائع مستقبل میں کرنسی  مشتری پر فروخت کرنےیا مشتری مستقبل میں کرنسی خریدنے کا وعدہ کرے   تو یہ وعدہ بیع کہلائے گا جو جائز ہے، لیکن   اگر  بائع و مشتری کے درمیان باقاعدہ  ایجاب و قبول ہو جائے اور مشتری سےیہ  بات طے ہو کہ کرنسی آپ کو کل ٹرانسفر ہوگی  تو بائع پر لازم ہے کہ کرنسی کی قیمت پراسی مجلس میں   قبضہ کر لے  ایسی صورت میں احد البدلین پر قبضہ پائے جانے کی وجہ سے بیع  شمار ہو کر عقد درست ہوگا لیکن اگر بیع کے بعد دونوں طرف سے کوئی بھی ادائیگی نہ ہو تو یہ بیع الکالی بالکالی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز)وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز۔ (تنوير الابصار مع الدر المختار،باب الربا،ج7،ص414)

ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم ۔۔۔ وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه ۔۔۔ ولا بيع ما ليس مملوكا له ۔۔۔ وأما شرائط النفاذ فنوعان أحدهما الملك أو الولاية۔(الفتاوي الهندية،كتاب البيوع،الباب الاول،ج3،ص2)

البيع مع تأجيل الثمن و تقسيطه صحيح ۔۔۔۔ يلزم ان تكون المدة معلومة فى البيع بالتأجيل،و التقسيط أي أنه يلزم أن يكون الأجل معلوم الوقت عند كلاالعاقدين، لأن جهالة تفضي الى النزاع۔  (شرح المجلة لسليم رستم باز،كتاب البيوع،الباب الثاني،ص124،125)

قال رحمه الله (لا ينعقد بلفظين:أحدهما الماضي،والآخر بلفظ المستقبل) وإنما لا ينعقد بذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم استعمل فيه لفظ الماضي الذي يدل على تحقق وجوده فكان الانعقاد مقتصرا عليه ، ولأن لفظ المستقبل إن كان من جانب البائع كان عدة لا بيعا ، وإن كان من جانب المشتري كان مساومة۔ (العناية شرح الهداية،كتاب البيوع،ج3،ص458)


فتویٰ نمبر : 2793/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور