بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کرائے پر دی گئئ دکانوں میں زکوۃ کا حکم


سوال

ایک شخص کا ایک پلاٹ ہے اس میں چار دکانیں اور ایک پرائیویٹ سکول ہیں ان دکانوں اور سکول کو کرایہ پر دیا ہے ماہانہ ہر ایک دکان کا کرایہ چھ ہزار پانچ سو روپے اور سکول کا کرایہ بیس ہزار پانچ سو روپے ہے اور اس پلاٹ کو 2017 میں ایک کروڑ بیس لاکھ پر خریدا ہے لہذا اب سوال یہ ہے کہ اس میں زکوۃ کس حساب سے ادا کی جائے گی ؟

جواب

واضح رہے کہ جو پلاٹ، مکان یا دکان وغیرہ اپنے استعمال یا کرایہ پر دینے کی نیت سے خریدی جائے تو اس کی مالیت میں زکوۃ واجب نہ ہوگی البتہ جب کرایہ پر دیا جائے اور مالک پہلے سے صاحب نصاب ہو یاکرایہ کی آمدنی  نصاب تک پہنچ جائے تو سال گزرجانے پر اس میں زکوۃ واجب ہوگی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق کرائے پر دی گئ دکانوں اور سکول کی مالیت پر زکوۃ واجب نہیں البتہ اس سے حاصل شدہ آمدنی اگر نصاب تک پہنچے یا سائل پہلے سے صاحب نصاب ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہوگی ۔

الزكوة واجبة على الحر العاقل ۔۔۔۔اذا ملك نصابا ملكا تاما ، وحال عليه الحول ۔ (الهداية ،كتاب الزكوة ج 1 ص 201،200)

ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة۔ (الخانية على هامش الهندية،كتاب الزكوة،فصل فى مال التجارة،ج1،ص251)


فتویٰ نمبر : 8750/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور