بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیعانہ دے کر زمین فروخت کرنا


سوال

اگر کوئی شخص دوسرے شخص سے 10لاکھ میں پلاٹ خرید لے اور اب تک اس نے پورے ثمن کی ادائیگی نہ کی ہو بلکہ بطور بیعانہ کے صرف 50 ہزار روپے دیے ہوں کیا بقیہ ثمن ادا کرنے سے پہلے مشتری کے لیے اس پلاٹ کو نفع کے ساتھ بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ صحت بیع کے لیے مبیع کا مملوک ہونا اور بائع کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے چنانچہ اگر کوئی چیز بائع کی ملکیت یا قبضہ میں نہ ہو تو اسے فروخت کرنا جائز نہیں تاہم زمین اور جائیداد کی بیع کے لیے قبضہ شرط نہیں بلکہ قبل القبض فروخت کرنا جائز ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر بائع اور مشتری نے باقاعدہ ایجاب و قبول کرکے سودا طےکر لیا ہو اور زمین بھی متعین ہو اور بطور بیعانہ مشتری نے 50 ہزار روپے بهی دئیے ہو ں ليكن بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے مقررہ وقت طے کرلیا ہو تو اس صورت میں اگر مشتری نے بائع کی رضامندی  سےزمین آگے فروخت کی ہوتو شرعا یہ بیع تام اور نافذ متصور ہوگی لیکن اگر مشتری نے پوری رقم ادا نہ کی ہو اور زمین بائع کی اجازت کے بغیر آگے فروخت کی ہوتو ایسی صورت میں بیع کا نفاذ اور لزوم بائع کی اجازت  پر موقوف ہوگا ۔

للمشتري أن يبيع المبيع لأخر قبل قبضه ان كان عقارا(شرح المجلة، خالد الأتاسي ،الباب الرابع ،الفصل الأول ج 2ص 173)

ويجوز بيع العقار قبل القبض ۔(الهداية،كتاب البيوع ،باب المرابحةوالتولية ج 3ص74)

( قوله : صح بيع عقار إلخ ) أي عندهما وقال محمد : لا يجوز وعبر بالصحة دون النفاذ واللزوم ؛ لأنهما موقوفان على نقد الثمن أو رضا البائع ۔(ردالمحتار على الدرالمختار كتاب البيوع ج4ص369)


فتویٰ نمبر : 2791/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور