بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
مدرسہ کے لئے وقف شدہ اشیا ء کا حکم
سوال
میرے پاس بچیاں قرآن شریف پڑھنے آتی ہیں میرا اپنا گھر ہے اوپر والے منزل میں میں رہتی ہوں اور نیچے والا منزل میں نے وقف کیا ہے اس میں مدرسہ کھولا ہے 100،80 کی تعداد میں بچیاں پڑھنے آتی ہیں ۔وہ منزل اب میرے استعمال میں نہیں ہے ۔پڑھنے والی بچیاں جمعہ کے دن مدرسہ میں چندہ ڈالتی ہے۔چونکہ سردی ہے ،صحن اور ایک کمرہ میں میں نے اپنا کارپٹ اور قالین ڈالا ہے ۔اور ایک کمرہ خالی ہے ۔اب ان چندہ کے پیسوں سے میں نے کارپٹ منگوایا ہے ۔اور بچیوں کے لیے ڈلوایا ہے ۔اور لائٹ جاتی ہے تو چارج والے بلب منگوائیں ہیں ،تاکہ جب لائٹ چلا جائے تو اندھیرا نہ ہو اور بچیاں پڑھ سکے آیا یہ جائز ہے؟اوران چندہ کے پیسوں سے میں ایک روپیہ بھی اپنی ذاتی اخراجات یا گھر کی کسی چیز کے لیے خرچ نہیں کرتی اور میرا ارادہ ہے کہ جب تک یہ بچیاں پڑھتی ہے ٹھیک ہے اس کے بعد میں یہ سب چیزیں کسی مدرسہ میں بھجوادونگی ۔آیا ضرورت کے تحت میں یہ لائٹ یا اس کمرے کو استعمال کرسکتی ہوں یا نہیں؟جس میں ان بچیوں کے پیسوں سے کارپٹ اور لائٹیں آئی ہیں ۔اور میں ان بچیوں کو اللہ کے رضا کے لیے پڑھاتی ہوں۔ان سے کسی قسم کی کوئی فیس وصول نہیں کرتی سوائے چندہ کے وہ بھی ان کی ضرورت میں لگاتی ہوں۔
جواب
کسی ادارے میں چندہ دینے والے اگر کسی خاص مصرف کی تعیین کردیں تو ایسی صورت میں اس خاص مصرف کے علاوہ مدرسہ کے ذمہ دار کے لیے کسی اور جگہ اس رقم کو صرف کرنا جائز نہیں اور اگر وہ کسی خاص مصرف کی تعیین نہ کریں بلکہ مطلقا مصالح مدرسہ کے لیے چندہ دیں تو پھر مدرسہ کے عمومی مصالح میں خرچ کیا جاسکتا ہے نیز مدرسہ میں دی ہوئی اشیا چونکہ وقف ہوتے ہیں لہذا ان اشیا کو اپنے ذاتی ضرورت کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔صورت مسئولہ کے مطابق اگر بچیوں کے والدین اس نیت سے چندہ دیتے ہیں کہ اس چندہ سے مدرسہ کے عمومی مصالح پوری ہوجائیں تو اس چندہ کو مدرسہ کے عمومی مصالح میں خرچ کرنا جائز ہے۔اور چونکہ گھر کی نچلی منزل میں موجود اشیا مدرسہ ہی کے لیے وقف ہیں لہذا اس کو ذاتی ضروریات کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ۔البتہ اگر مدرسہ کے مسئول یا استاد کو ایسی ضرورت پیش ہو جس میں ان اشیاء (یعنی لائٹ ،کمرہ یا کارپٹ وغیرہ)کا استعمال ضروری ہواوراستعمال سے اس چیز میں فرق نہ آئے نیز اس کی وجہ سے طلبہ کے اسباق بھی متاثرنہ ہو تواس صورت میں بقدر ضرورت ان اشیاء کے استعمال کی گنجائش ہو سکتی ہے ۔
الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج2ص362)
شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به۔(ردالمحتار علی درالمختار،ج6ص735)
وليس للمودع حق التصرف والاسترباح في الوديعة۔(المبسوط للسرخسی،ج11ص122)
شرط ان یتصدق بفاضل الغلۃ علی من یسال فی مسجد کذا کل یوم لم یراع شرطہ،فللقیم التصدق علی سائل غیر ذالک المسجد،او خارج المسجد،او علی من لا یسال۔(غمز عیون الابصار شرح الاشباہ والنظائر،کتاب الوقف،ج2 ص108)