بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مشت زنی کا حکم


سوال

کسی شخص کا اپنے خواہشات کو کم کرنے کے لیے ہفتہ یا مہینہ میں اپنے ہاتھ کے ذریعے شہوت پورا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

استمناء بالید(مشت زنی)اللہ جل شانہ کی عطا کردہ جسمانی قوت کو غیر محل میں خرچ کرنے کی وجہ سے ظلم کے مترادف ہے۔اس لیے احادیث مبارکہ میں اس کو ممنوع قرار دیا ہے۔

چنانچہ اگر کوئی شخص لذت حاصل کرنے کی خاطر مشت زنی کرتا ہو تو اس کے لیے اس فعل کا ارتکاب مکروہ تحریمی ہے۔اور یہ ممانعت اور کراہت کسی وقت کے ساتھ مشروط نہیں بلکہ جب بھی لذت حاصل کرنے کی خاطر ہاتھ سے مشت زنی کی جائے تو اس فعل کا ارتکاب مکروہ تحریمی شمار ہوگا۔تاہم اگر کوئی شخص شہوت سے اتنا مغلوب ہو جائے کہ بغیر مشت زنی کے زنا  میں پڑنے کا قوی اندیشہ ہو تو زنا چونکہ اس سے بڑا جرم اور گناہ ہے اس لیے زنا سے بچنے کی خاطر ایسے وقت میں مشت زنی کرنے والے کے متعلق امید کی جاسکتی ہے کہ اس پر اس کا مواخذہ(پکڑ)نہ ہو۔

قال القرطبی فی تفسیر قولہ تعالی:(او ما ملکت ایمانھم)ھذا یقتضی تحریم الزنی وما قلناہ من الاستمناء۔(الجامع لاحکام القران،سورۃ المومنون ج6ص106)

الاستمناء بالکف وان کرہ تحریما لحدیث "ناکح الید ملعون" ولو خاف الزنا یرجی ان لا وبال علیہ۔(ردالمحتار مع الرد المختار کتاب الصوم،ج3ص371)

وھل یجوز الاستمناء بالکف خارج رمضان ان اراد الشھوۃ لا یحل لقولہ علیہ السلام "ناکح الید ملعون" وان اراد تسکین الشھوۃ یرجی ان لا یکون علیہ وبال۔(البحر الرائق،کتاب الصوم ج2ص475)


فتویٰ نمبر : 4562/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور