بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
زکوٰۃ کی ادائیگی میں یوم الادا کی قیمت کااعتبار
سوال
ایک آدمی کے پاس سن(2006ء) تاسن(2008ء)یعنی تین سال تک آٹھ تولے سوناتھا۔اور اس وقت سونے کی قیمت بھی کم تھی لیکن بہرحال بندے نے اس کی زکوٰۃ ادانہیں کی اب بندہ زکوٰۃ ادا کرناچاہتاہے تو کس حساب سے ادا کرےگا۔ پھر اس کے بعد اب تک بندہ کے پاس ڈھائی(2.5) تولے سونا ہے جس کی زکوٰۃ بھی ابھی تک ادا نہیں کی اب اداکرنا چاہتاہے تو کس طریقے اسے اداکرےگا؟
جواب
جس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت موجودہو اور اس پر سال گزرجائےتواس پر زکوٰۃ لازم ہے۔زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد اگر کوئی شخص اس کی ادائیگی میں تاخیر کرے تو اس سے زکوٰۃساقط نہیں ہوتی۔صورتِ مسئولہ میں سائل کے پاس چونکہ تین سالوں تک نصابِ زکوٰۃکامل رہا ،اس لیے اس پر تین سالوں کی زکوٰۃ لازم ہے۔جس کےحساب کا طریقہ یہ ہے کہ آٹھ تولے سونے کی موجودہ قیمت معلوم کرنے کے بعد اس میں ڈھائی فیصد(چالیسواں حصہ)پہلے سال کی زکوٰۃ ہوگی۔پھر زکوٰۃ کی و اجب شدہ رقم کل مالیت سے منفی کرکےبقیہ رقم سےپھر ڈھائی فیصد(چالیسواں حصہ)دوسرے سال کی زکوٰۃ ہوگی اور پھر اسی طرح زکوٰۃ کی یہ واجب شدہ رقم منفی کرکےبقیہ رقم کا ڈھائی فیصد تیسرےسال کی زکوٰۃ ہوگی۔تینوں سالوں کی زکوٰۃ کی رقم جمع کرکےاتنی رقم بہ نیتِ زکوٰۃ دی جائے۔
بقیہ سالوں میں ڈھائی تولے سونےکےساتھ اگراتنی نقدی موجود تھی جوپینتیس(35)تولے چاندی کی قیمت کے برابر ہو توبقیہ سالوں کی زکوٰۃ بھی لازم ہوگی،ورنہ نہیں۔
وتعتبر القيمة يوم الوجوب وقالا يوم الأداء وفي السوائم يوم الأداء إجماعا وهو الأصح. وقال ابن عابدين:وفي المحيط:يعتبر يوم الأداءبالإجماع وهو الأصح.(الدرالمختارعلى صدرردالمحتار، كتاب الزكوة،باب زكوة الغنم،ج3ص211)
تَجِبُ في كل مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وفي كل عِشْرِينَ مِثْقَالِ ذَهَبٍ نِصْفُ مِثْقَالٍ مَضْرُوبًا كان أو لم يَكُنْ مَصُوغًا أو غير مَصُوغٍ حُلِيًّا كان لِلرِّجَالِ أو لِلنِّسَاءِ تِبْرًا كان أو سَبِيكَةً.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،الباب الثالث في زكوة الذهب والفضة والعروض ج1ص172)
وَلَوْ ضَمَّ أَحَدَ النِّصَابَيْنِ إلَى الْأُخْرَى حتى يُؤَدِّيَ كُلَّهُ من الذَّهَبِ أو من الْفِضَّةِ لَا بَأْسَ بِهِ لَكِنْ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ التَّقْوِيمُ بِمَا هو أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ قَدْرًا وَرَوَاجًا وَإِلَّا فَيُؤَدِّي من كل وَاحِدٍ رُبُعَ عُشْرِهِ.(أيضا)