بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مسجد کیلئے موقوفہ زمین میں راستہ دینا


سوال

مسجد کیلئے ایک شخص نے زمین وقف کی کچھ عرصہ بعد اس وقف شدہ زمین کے ساتھ متصل زمین کو دوسرے شخص نے وقف کی اب دوسرا شخص اس پہلے وقف شدہ زمین میں راستے کا طلب گار ہے اور کہتا ہے کہ اگر دو گے تو اس زمین کو مسجد کیلئے دوں گا ورنہ نہیں ۔اب جو زمین پہلے سے وقف شدہ ہے اس میں مسجد کی تعمیر کیلئے بنیادیں کھود کر اس کو بھر دیا گیا ہے ،علما سے مشاورت کے بعد دو رائے سامنے آئیں ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ اس وقف شدہ زمین نماز ادا نہیں ہوئی ہے لہذا مسجد کی بہتری کی خاطر (دوسری وقف شدہ زمین راستے کے عوض مسجد کے توسیع کیلئے ملے )یہ گنجائش موجود ہے یعنی پہلے وقف شدہ زمین میں راستہ دیا جاسکتا ہے ۔اس لئے کہ مسجد کی وقف کی تکمیل اس زمین میں نماز پڑھنے سے ہوتی ہے ۔جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ راستہ نہیں دیا جاسکتا ۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ (1)مسجد کیلئے وقف شدہ زمین کی تکمیل بنیادیں بنانے سے ہو گی یا اس زمین میں نماز پڑھنے سے ہو گی ۔(2)مندرجہ بالا صورت حال میں مسجد کی توسیع اور فائدہ کی خاطر وقف شدہ زمین میں کچھ حصہ باہر نکال کر راستے کیلئے دیا سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

مسجد شرعی بننے کیلئے تین باتیں ضروری ہیں :(1)زمین مسجد کیلئے وقف ہو ۔(2)موقوفہ زمین کو واقف نے اپنی ملک  یا دوسرے کی  ملک سے  اس طرح علیحدہ  کر دیا ہو  کہ اس کا یا کسی اور کا حق  اس سے متعلق نہ ہو ۔(3)متولی کی اجازت سے  اس  میں ایک  مرتبہ  نماز  باجماعت ہو چکی ہو ۔اگر یہ تینوں باتیں پائی جائیں  تو مسجد شرعی کے احکام  جاری ہو ں گے ۔لیکن اگر کوئی زمین   مسجد  کیلئے وقف کی گئی ہو لیکن ابھی تک اس میں نماز باجماعت  نہ ہو چکی ہو تو وقف تام نہ ہونے کی وجہ سے وہ زمین مالک  کی ملکیت  سے نہیں  نکلتی،ایسی صورت میں مالک   کیلئے وہ زمین  مسجد کے علاوہ  مصارف میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے ۔

       صورت مسؤلہ میں  اگر واقعتا  مسجد  کیلئے موقوفہ  زمین میں نماز باجماعت نہ ہو چکی ہو تو وقف تام نہیں ہوا،لہذا مالک کیلئے اس زمین  سے دوسرے شخص کیلئے  راستہ دینا جائز ہے ۔

من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله تعالى إلا به ۔۔وأما الصلاة فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى هكذا في البحر الرائق التسليم في المسجد أن تصلی فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا كما قال محمد رحمه الله تعالى رواية الحسن كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادي العشر،ج2ص408)

و ( بقوله جعلته مسجدا ) عند الثاني ( وشرط محمد ) والإمام ( الصلاة فيه )بجماعۃ۔ وقال ابن عابدین تحتہ: قوله ( بجماعة ) لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف وتسليم كل شيء بحسبه ففي المقبرة بدفن واحدوفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد ولذا شرط أن تكون جهرا بأذان وإقامة وإلا لم يصر مسجدا ۔(الدر المختارمع رد المحتار ،كتاب الوقف،مطلب في احكام المسجدج 6ص545)


فتویٰ نمبر : 4556/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور