بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
مفقود الخبر کی میراث کا حکم
سوال
ایک مرد مسمی محاذ خان ولد جہانگیر خان محنت مزدوری کیلئے 40 سال کی عمر میں مورخہ 1898۔06۔1کوہندوستان چلا گیا ،ہندوستان جانے سے ایک مہینہ قبل زوجہ مسماۃقاسم جانہ بھی وفات پا چکی تھی ۔ہندوستان جاتے وقت محاذ خان کے 3 بیٹے (محمد امین ،سید علی،نور علی )بقید حیات تھے مذکور محاذ خان کے بیٹے بھی ناگزیر وجوہات کی بنا پر نقل مکانی کر گئے ۔محاذ خان صاحب چونکہ صاحب جائیداد تھا اور کاغذات مال میں تا حال واحد مالک غیر قابض چلا آرہا ہے بچوں کی نقل مکانی کی وجہ سے تاحال وراثت کی تقسیم نہیں ہوئی ہے اور تاحال محاذ خان کی موت اور حیات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں اور اس سے تاحال کسی کا رابطہ نہیں ہوا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ(1)محاذ خان کی وفات کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟نیز اراضی وغیرہ کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟(2)ہر بیٹے کو کتنے حصے ملیں گے؟واضح رہے کہ محاذ خان کے دختران نہیں تھے ۔ نوٹ :محمد امین کی تاریخ وفات1960ء۔01۔01،سید علی کی تاریخ وفات 1964ء۔01۔01،نور علی کی تاریخ وفات1970ء۔01۔01 ہے۔
جواب
جو شخص لا پتہ ہو چکا ہو اوراس کی زندگی اور موت کے بارے میں کوئی معلومات نہ ہوں ،وہ" مفقود الخبر" کہلاتا ہے فقہ حنفی کی رو سے ایسا شخص نوے (90)سال کی عمر تک زندہ اور اپنے مال وجائیداد کا مالک متصور ہوتا ہے اس لئے جب تک مفقود الخبر کی عمر نوے سال نہ ہو جائے اور مسلمان حاکم یا قاضی اس کی موت کا فیصلہ صادر نہ کرے اس وقت تک اس کے مال وجائیداد کو تقسیم نہیں کیا جائے گا ۔اور جب اس کی موت کا علم ہوجائےیا اس کی عمر 90 سال پوری ہونے پر قاضی فیصلہ کرے تو اس وقت جو ورثازندہ موجود ہوں ان کے درمیان ان کے حصص کے بقدر اس کا ترکہ بطور میراث تقسیم ہوگا اور جو ورثا اس سے پہلے فوت ہو چکے ہوں وہ اس کی میراث سے محروم ہوں گے ۔
صورت مسؤلہ میں جب مسمی محاذ خان 1898ء۔06۔1میں 40 سال کی عمر میں ہندوستان چلا گیا اور اس کے بعد سے لا پتہ تھا تو چونکہ 1948ءمیں اس کی عمر کے 90 سال پورے ہوتے ہیں لہذا متعلقہ سرکاری ذمہ دار انتظامیہ یا کورٹ اگر اس تحقیق پر پہنچے کہ 1948ء میں اس کے پسماندہ ورثاء میں تینوں بیٹے زندہ موجود تھے اوران کے علاوہ کوئی اور وارث موجود نہ تھا تو اس کی میراث ان بیٹوں میں تقسیم ہوگی لہذا شرعا یہ تینوں بیٹے (محمد امین ،سید علی ،نور علی )اپنے والد مسمی محاذ خان سے میراث کے حقدار ہوں گے ۔بعد ازاں جب وہ فوت ہوئے تو ان کی وفات کے وقت ان کے جو ورثا زندہ تھے ہر ایک کا حصہ ان ورثا کی طرف منتقل ہوگا ۔
المفقود حی فی مالہ حتی لایر ث منہ احد ،ومیت فی مال غیرہ حتی لا یرث من احد ،ویوقف مالہ حتی یصح موتہ او تمضی علیہ مدۃ ۔واختلف الروایات فی تلک المدۃ۔۔۔قال بعضھم :تسعون سنۃوعلیہ الفتوی۔(السراجی فی المیراث،فصل فی المفقود ،85)
إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة ۔ وقال ابن عابدين تحته :رأيت عبارة الواقعات عن القنية أن هذا أي ما روى عن أبي حنيفة من تفويض موته إلى رأي القاضي نص على أنه إنما يحكم بموته بقضاء ۔(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب المفقود،ج6ص463)
إنما وفاة المفقود حكما بعد إكماله سن التسعين يحصل بحكم الحاكم . وإلا لا يعد أنه توفي حكما بمجرد إكماله سن التسعين بدون حكم الحاكم . (درر الحكام شرح مجلة الاحكام ،ج2ص251)