بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نابالغ اور بالغ اولاد کو ہبہ کرنا


سوال

ایک آدمی نے اپنی زندگی میں چند بچوں یعنی ورثا میں سے کسی کے لیے مکان خریدنے کے لیے رقم مختص کی مکان خریدا لیکن پسند نہیں آیا تو 85 لاکھ روپے کا بیچا اور یہ رقم کسی کو دے کر وفات تک اس پر ماہانہ 30 ہزار سود وصول کرتا رہا اس مقروض نے کہا کہ جب تک آپ کی پسندکا مکان نہیں ملتا میں آپ کو 30ہزار ماہانہ دیتا رہوں گا اب وفات کے بعد وہ بچے اس رقم پر قبضہ کرسکتے ہیں یا تمام ورثا کا حق ہے ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے بلا عوض کسی کو اپنی مملوکہ چیز کا مالک بنا دینا ہبہ کہلاتا ہے ہبہ کے لیے ضروری ہے کہ موہوب لہ اس چیز پر قبضہ کرلے بغیر قبضہ کے ہبہ تام متصور نہیں ہوگا تاہم نابالغ بچوں کے لیے ہبہ صرف عقد سے تام ہوجاتاہے ان کو قبضہ دینا ضروری نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس شخص نے اپنی حیات میں بالغ اور نابالغ بچوں کے لیے مکان خریدا تو اگر اپنے بچوں کو ہبہ کرنے کا محض نیت اورارادہ کیا تھا لیکن عملاہبہ نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں محض ہبہ کے ارادہ کرنے سے ہبہ معتبر نہ ہوگا لہذا یہ رقم ترکہ کا حصہ شمار ہوگا اور سب ورثا میں بقدر حصص میراث تقسیم ہوگا البتہ اگر اس نے باقاعدہ ہبہ کے الفاظ استعمال کیے ہوں لیکن بچوں کو قبضہ وتصرف نہ دیا ہو تو چونکہ بالغ اولاد کے حق میں قبضہ اور تصرف نہ ہونے کی وجہ سے ہبہ تام نہیں ہوتا لہذا ان کاحصہ بطور میراث تمام ورثا میں تقسیم ہوگا اور نابالغ اولاد کے حق میں چونکہ والد کے قبضہ سے قبضہ حاصل ہوجاتا ہے لہذا ان کا حصہ ان کو دیا جائےگا اس میں ورثا شریک نہ ہوں گے ۔

تنعقدالهبة بالإيجاب والقبول،وتتم بالقبض الكامل ؛لأنهامن التبرعات ،والتبرع لا يتم إلا بالقبض۔(شرح المجلة لسليم رستم باز المادة 837ص462)

وتتم الهبة بالقبض الكامل۔۔۔لأن القبض شرط تمامها ۔(الدرالمختار على صدر رد المحتار كتاب الهبة ج5ص592)

وهبة الأب لطفله تتم بالعقد ولا فرق في ذلك بينما إذا كان في يده أو في يد مودعه۔(الفتاوى الهندية كتاب الهبة ج 4ص416)


فتویٰ نمبر : 4555/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور