بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جانور تقسیم کرنے کی ایک صورت


سوال

زيد نے دو گائے، عمر نے تين گائے اور بكر نے ايك بيل جنگل ميں چهوڑ ديا اس پر تقريبا دس پندره سال گزر گئے اور ان كی تعداد بڑھ کر تیس چالیس تک پہنچ گئی اب اصل گائے کا تو علم ہے لیکن بچوں کا ادراک نہیں ہو پارہا کہ بچے کونسی گائے کے ہیں تو اب ان بچوں کی تقسیم ان تینوں کے درمیان کس اعتبار سے ہوگی کہ ہر ایک کو اس کا شرعی حصہ مل جائے؟

جواب

کسی چیز کا کسی کی ملکیت میں آنے کے لیے ضروری ہیکہ اسباب ملک میں سے کوئی سبب یقینی طور پر پایا جائے محض شک وشبہ کی بنیاد پر ملکیت ثابت نہیں ہوسکتی لہذاصورت مسؤلہ کے مطابق  گائے کی تعداد میں جو زیادتی ہوئی ہےاس میں بکر کا تو کوئی حصہ نہیں کیونکہ جانوروں میں بچوں کی نسبت مؤنث کی طرف ہوتی ہے  لہذا بکر صرف اپنے بیل کا حقدار ہوگا۔

اور جہاں تک زید اور عمر کی بات ہے   تو چونکہ یہاں مختلف احتمالات اور صورتیں ہو سکتی ہیں اور ان میں  سے کسی بھی صورت کو بلادلیل متعین کرنا ممکن نہیں کیونکہ بلا دلیل کسی بھی صورت کو متعین کرنا ترجیح بلامرجح کو مستلزم ہوگا لہذا جب تک کسی دلیل کی بنیاد پر کوئی صورت راجح نہیں ہوجاتی  تو اس کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

البتہ اگر یہ بات یقینی ہو کہ اس جنگل میں اس پورے عرصہ میں  ان کے جانوروں کے علاوہ کسی دوسرے کے جانور نہیں تھےاور انہیں کی گائیوں سے یہ نسل بڑھی ہے ہو  تو پھر بہتر یہی ہے کہ   باہمی رضا مندی سے تقسیم کی جائے اور ایک دوسرے سے عفو ودرگزر طلب کیا جائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ(سورۃ النساء،آیت 29)

 عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ وأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، والْحَرَامَ بَيِّنٌ، وبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ، وعِرْضِهِ، ومَنْ وقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، أَلَا وإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وهِيَ الْقَلْبُ. صحيح مسلم،حديث1598،ج3،ص1219)

 لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَحَدٍ بِلَا سَبَبٍ شَرْعِيٍّ(شرح المجله،مادة97،ج1،ص264)


فتویٰ نمبر : 4554/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور