بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سلام كے متعلق كچھ احکام


سوال

  1. مسجد میں باجماعت نماز کے لیے انتظار میں بیٹھے لوگوں پر جو کہ ذکرو تسبیح میں مشغول ہوں سلام ڈالنا کیسا ہے ؟

  2. اگر نماز کے انتظار میں بیٹھے لوگ باہم باتوں میں مشغول ہوں تو ایسے لوگوں پر سلام ڈالنا کیسا ہے؟ 

  3. وضو کرنے والوں پر سلام ڈالنا کیسا ہے؟َ استنجا ءخانہ میں داخل ہونے والے کوداخل ہونے سے پہلے سلام کرنا کیسا ہے؟

  4. استنجاء خانہ میں موجود شخص کو سلام کرنا کیسا ہے؟

  5. قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کو سلام کرناکیسا ہے؟

جواب

(1،2) سلام کرنا ایک مسنون عمل ہے لیکن بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں پر سلام کرنے کو فقہاء کرام نے مکروہ کہا ہے۔صورت مسؤلہ کے مطابق  جو لوگ مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوں اورذکرو تسبیح میں مشغول ہوں تو ایسے لوگوں کو سلام نہیں کرنا چاہئے البتہ جو لوگ ذکرو تسبیح میں مشغول نہ ہوں ویسے ہی نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوں تو ایسے لوگوں کو دھیمی آواز میں سلام کرنا کہ سنن و نوافل میں مشغول لوگوں کی نماز میں کوئی خلل نہ پڑے جائز ہے تاہم اگر سارے لوگ نماز میں مشغول ہوں تو سلام کرنا مکروہ ہے۔

(3) وضو کرنے والے کو دوران وضو سلام نہیں کرنا چاہیے بلکہ جب وہ وضو سے فارغ ہو جائے تو تب سلام کرنا چاہیے۔

(4) استجاء خانہ میں داخل ہونے والےشخص کو داخل ہونے سے پہلے سلام کیا جاسکتا ہے البتہ استنجاء خانہ میں موجود شخص کو سلام نہیں کہنا  چاہیے کیونکہ استنجاء خانہ محل نجاست ہے اور ایسی جگہ پر سلام کرنا مکروہ ہے۔

(5) قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کو سلام نہیں کرنا چاہیے  اور اگر کوئی سلام کر لے تو اس کا جوا ب دینا واجب نہیں ۔

عن جابر بن عبد الله أن رجلا مر على النبي صلى الله عليه و سلم وهو يبول  فسلم عليه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم  إذا رأيتني على مثل هذه الحالة فلا تسلم علي  فإنك ان فعلت ذلك لم أرد عليك۔(سنن ابن ماجه،ج1،ص126،حديث نمبر 352)

  أما إذا كان مشتغلا بالدعاء مستغرقا فيه ، مجمع القلب عليه ، ۔۔۔۔ والأظهر عندي في هذا أنه يكره السلام عليه ، لأنه يتنكد به ويشق عليه أكثر من مشقة الاكل۔(الاذكارالنووي،ج1،ص251)

 وإن دخل مسجدا وبعض القوم في الصلاة وبعضهم لم يكونوا فيها يسلم وإن لم يسلم لم يكن تاركاللسنة۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج6،ص413)

يكره السلام على العاجز عن الجواب حقيقة كالمشغول بالأكل أو الاستفراغ أو شرعا كالمشغول بالصلاة وقراءة القرآن ولو سلم لا يستحق الجواب۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج1،ص617)


فتویٰ نمبر : 4553/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور