بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
قبر پختہ کرنا اور اطراف میں ٹائل لگانا
سوال
قبر مکمل پختہ کرنا یا قبر کے اردگرد ایسے ماربل لگانا جو کہ بہت اونچے نہ ہوں اور اوپر سے قبر پختہ بھی نہ ہو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب
قبروں کو پختہ کرنا شرعاًناجائز ہے حدیث شریف میں اس سے منع فرمایا گیا ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پختہ بنانے اور اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق قبر کو مکمل پختہ کرنا جائز نہیں ہے البتہ قبر کی حفاظت اور بے حرمتی سے بچنے کے لیے اطراف کو مضبوط بنانا مرخص ہے لیکن یہ ضرورت کسی پتھر کے تختوں یا سیمنٹ سے ممکن ہے ۔ ماربل یا ٹائل لگوانا اسراف سے خالی نہیں لہذا ضرورت پتھر یا سیمنٹ سے پوری کی جائے ماربل یا ٹائل نہ لگائے جائیں ۔
عن جابررضی الله تعالی عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر وأن يقعد عليه وأن يبنى عليہ۔(الصحيح لمسلم، حديث نمبر970، ج2،ص667)
عن مكحول قال بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم جالس على قبر ابنه إذ رأى فرجة فقال للحفار ايتني بمدرة لأسدها أما أنها لا تضر ولا تنفع ولكن يقر بعين الحي۔(مصنف عبدالرزاق،ج3،ص508)
سئل فیما اذا قرر القاضی زیدا المعماری فی حفر قبور الموتی وتعمیرھا واصلاحھا للاحتیاج لذالک لاھلیتہ واتقانہ ویرید بعض الحافرین منعہ من ذالک بلاوجہ شرعی فھل یمنع المعارض؟ (الجواب) نعم یمنع۔ (العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ،ج1،ص8)