بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میزان بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا


سوال

میزان بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا جائز ہے یا نہیں یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟

جواب

موجودہ دور میں سودی کاروبار کی حوصلہ شکنی اور اسلامی معیشت کو ترویج دینے کی خاطر اسلامی بینک کام کررہے ہیں اگرچہ اسلامی بینک کے نام سے قائم ہونے والے ہر ایک ادارہ پر   اعتماد ممکن نہیں۔  لیکن جس بینک کے قواعد و ضوابط حقیقت میں شرعی ہوں اور جید مفتیان کرام کی نگرانی میں کام کرتا ہوتو شرعا ان کے ساتھ معاملات کرنے کی گنجائش ہے ۔

ہماری معلومات کےمطابق میزان بینک کے معاملات فی الحال شرعی قواعد و ضوابط کے موافق ہیں اور جید علمائے کرام ان کی نگرانی کررہے ہیں لہذا میزان بینک سے قسطوں پر گاڑی خریدنا جائز ہے ، یہ سود کے زمرے میں داخل نہیں ۔

قولہ تعالی :واحل اللہ البیع وحرم الربوا(البقرۃ275)

الامور بمقاصدھایعنی ان الحکم الذی یترتب علی امر یکون علی مقتضی ماھو المقصود من ذلک الامر ۔(شرح المجلۃ لخالد الاتاسی ،المادۃ:2ج ص13)


فتویٰ نمبر : 2786/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور