بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شرکت اعمال کی ایک صورت


سوال

میری موٹر سائیکل ٹھیک کرنے کی دکان ہے دکان میں میرے ساتھ ایک استاد کام کرتا ہے دکا ن کا کرایہ اور بجلی کا بل میں خود ادا کرتا ہوں اور استاد دن میں جتنا کام کرلیں اس کے منافع میں سے 25 فی صد میں لیتا ہوں باقی 75فی صد اس کا ہوتا ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا میرے لیے 25 فی صد لینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

 دو آدمی مل کر کسی کام کی سرانجام دہی کا معاملہ  طے کریں مثلا یہ کہ ہم دونوں کپڑے سیئں گے یا موٹر سائیکل ٹھیک کریں گے وغیرہ اور جو کچھ اللہ تعالی رزق دے گا وہ ہم دونوں   کے درمیان اس مقررہ تناسب سے تقسیم ہو گا اس کو شرکۃ الاعمال یا شرکۃالابدان یا شرکۃ الصنائع  کہتے ہے ۔ شرعا یہ عقد جائز ہے نیز اگر دونوں میں سے کوئی ایک عمل قبول کرے اور دوسرا عمل سرانجام دیتا  رہے اور منافع باہمی معاہدے اور مقررہ تناسب سے تقسیم کریں تو بھی یہ معاملہ استحسانا جائز ہے ۔

          صور ت مسؤلہ میں اگر مذکورہ شخص  موٹر سائیکل مکینک کے ساتھ عمل میں شریک ہو یا عمل تو کاریگر  کرتا ہو لیکن یہ شخص لوگوں کے ساتھ ڈیلنگ کرتا ہو اور حاصل شدہ منافع دونوں   معاہدے کے تحت مذکورہ تناسب   سے تقسیم کرتے ہو ں تو یہ معاملہ  جائز ہے اور سائل کیلئے 25 فی صد منافع لینا حلال ہے ۔

لیکن اگر مذکورہ شخص نہ کاریگر کے ساتھ عمل میں شریک ہو اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ ڈیلنگ کرتا ہو بلکہ  موٹرسائیکل مکینک سے صرف اپنی دکان  میں کام کرنے کے  بدلے 25 فی صد منافع وصول کرتا  ہو تو ایسی صورت میں شرعا یہ عقد فاسد ہوگی جس سے اجتناب ضروری ہے  ۔

 واما تقبل وتسمی شرکۃ صنائع واعمال وابدان ۔وقال ابن عابدین :والمراد عقد الشركة على التقبل والعمل۔۔۔ لو اشتركا على أن يتقبل أحدهما المتاع ويعمل الآخر أو يتقبله أحدهما ويقطعه ثم يدفعه إلى الآخر للخياطة بالنصف جاز كذا في القنية۔۔۔وفي النهر أن المشترك فيه إنما هو العمل ولذا قالوا من صور هذه الشركة أن يجلس آخر على دكانه فيطرح عليه العمل بالنصف والقياس أن لا يجوز لأن من أحدهما العمل ومن الآخر الحانوت واستحسن جوازها لأن التقبل من صاحب الحانوت عمل ۔(الدر المختار مع رد المحتار ،كتاب الشركة ،مطلب في شركة التقبل ،ج6ص497)

وأما شركة الصنائع وتسمى شركة العمل كالخياطين والصباغين ۔۔۔أن المعنى المجوز للشركة وهو ما ذكرناه أن المقصود منه التحصيل وهو ممكن بالتوكيل لا تتفاوت باتحاد العمل والمكان أو اختلافهما ، أما الأول فلأن التوكيل بتقبل العمل صحيح ممن يحسن مباشرة ذلك العمل وممن لا يحسن لأنه لا يتعين على المتقبل إقامة العمل بيديه ، بل له أن يقيم بأعوانه وأجرائه ، وكل واحد منهما غير عاجز عن ذلك فكان العقد صحيحا .(العنايةشرح الهداية،كتاب الشركة،ج3ص423،422)

( قوله وإذا أقعد الخياط إلخ ) يعني إذا كان الخياط أو الصباغ معروفا وهو رجل مشهور عند الناس وله جاه ولكنه غير حاذق فأقعد في دكانه رجلا حاذقا ليتقبل صاحب الدكان العمل من الناس ويعمل الحاذق وجعلا ما يحصل من الأجرة بينهما نصفين جاز استحسانا ۔۔۔وجه الاستحسان أن هذه ليست بإجارة وإنما هي شركة الصنائع وهي شركة التقبل ، لأن شركة التقبل أن يكون ضمان العمل عليهما وأحدهما يتولى القبول من الناس والآخر يتولى العمل لحذاقته وهو متعارف فوجب القول بجوازها للتعامل بها قال صلى الله عليه وسلم { ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن }۔(العناية،شرح الهداية، مسائل منثورة في الاجارةج 5ص260)

وا ما لو كانت الدابة بين اثنين دفعها أحدهما للآخر على أن يؤجرها ويعمل عليها على أن ثلثي الأجر للعامل والثلث للآخر وهي كثيرة الوقوع ولا شك في فسادها لأن المنفعة كالعروض لا تصح فيها الشركة وحينئذ فالأجر بينهما على قدر ملكهما وللعامل أجر مثل عمله۔(رد المحتار ،مطلب في صحة القياس،ج3ص383)


فتویٰ نمبر : 2784/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور