بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اجارہ والی گاڑی میں مرمت کا حکم


سوال

ميری ٹيكسی ہے میں چاہتا ہوں کہ کسی کو مزدوری پر دے دو ں،اور وہ مجھے اس کا متعین رقم دیا کرے تو اس صورت میں خرابی میرے ذمہ ہوگی یا جس کو بطور کرایہ دیا ہے ؟نیز پٹرول ڈلوانا کس کے ذمہ ہوگا ؟

جواب

اجارہ کے معاملے میں دو فریق ہوتے ہیں ،ایک کسی چیز کی منفعت حاصل کرنے والا جس کو اصطلاح میں" مستاجر" کہا جا تا ہے دوسرا کسی چیز کی منفعت دوسرے کوعوض کے  بدلے دینے والا جس کو اصطلاح میں "موجر" کہا جا تا ہے ۔اجارہ کے معاملہ کی رو سے ان دونوں فریقین پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ہر ایک فریق پر اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری شرعا  لازم ہے ۔چنانچہ کرایہ پر دینے والے (اثاثہ کے مالک )کی ذمہ داری ہے  کہ معاملہ طے ہونے کے بعد وہ کرایہ پر دی گئی چیز تمام تر ضروری لوازمات  کے ساتھ (جن پر اس چیز کا استعمال اور اس چیز سے نفع اٹھا نا موقوف ہو)کرایہ دار کے حوالہ کرے ،نیز اگر اجارہ کی مدت کے اندر اس چیز میں کوئی ایسی رکاوٹ  پیش آجائے جس سے اس کے مطلوبہ استعمال میں خلل آرہا ہو تو اس رکاوٹ کا ازالہ بھی اثاثہ  کے مالک کے ذمے ہے ۔اسی طرح مستاجر (کرایہ دار )پر بھی اس عقد کے نتیجے  میں یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ کرایہ بروقت ادا کرے ،عین مؤجرہ(کرایہ پر دئیے ہوئے اثاثہ)سے  عرف یالگائی گئی  شرط کے مطابق  نفع حاصل کرے،اجارہ پر دی ہوئی چیز کی حفاظت کرے اوراجارہ کی مدت گزرنے کے بعداثاثے  کو مالک  کی طرف واپس کرے۔

جہاں تک صورت مسؤلہ میں اثاثے کی مرمت کا مسئلہ ہے تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ(1) اگراجارہ پر دی ہوئی چیز  میں کرایہ دار  کی تعدی وزیادتی کے بغیر کوئی ایسی بنیادی خرابی لازم آئے جس کی وجہ سے اس اثاثے سے مطلوبہ  منفعت حاصل کرنا ممکن نہ ہو  تو ایسی صورت میں اس کی مرمت مؤجر (کرایہ پر دینے والے) کی ذمہ داری ہوگی ،اس لئے کہ وہ ہی اس  اثاثے کا مالک ہے اور شرعا ایسے نقصان  اور خرابی  سے حفاظت  اور مرمت مالک کے ذمے ہے ۔ایسی بنیادی  مرمت   کو جدید اصطلاح میں "الصیانۃ الاساسیۃ"کہا جاتا ہے ۔  یہ مرمت کرایہ دار پر لازم  نہیں اگر چہ عقد اجارہ میں  یہ شرط لگائی گئی ہو کہ بنیادی مرمت   کرایہ دار کے ذمے ہوگی،کیونکہ یہ ایسی شرط ہے جو عقد اجارہ کے مقتضیٰ کے خلاف ہے  جس سے عقد اجارہ فاسد ہوتا ہے ،اور اس  میں مؤجر کا فائدہ  ہے   لہذا یہ شرط مفسد عقد ہے ۔نیز یہ بھی یاد رہے کہ اگر اجارہ کے دوران ایسی خرابی یا رکاوٹ  پیش آئے  تو مستاجر  کی طرف سے  مؤجر  پر اس خرابی  کے ازالے کے بارے  میں جبر نہیں کیا جا سکتا  کہ وہ ضرور اثاثے  کو ٹھیک کردے ،ہاں اگر وہ  اس نقصان  کا ازالہ نہیں کرتا  تو مستاجر کو اجارہ فسخ کرنے کا حق حاصل  رہے گا ۔

(2)اور اگر کوئی اثاثہ  چند سالوں کیلئے  اجارہ پر  دیا  جاتا ہو اور اس میں مستاجر کے ذمہ  یہ شرط لگائی جائے  کہ اثاثے کو استعمال   کرتے ہوئے جو معمول کے مطابق اخراجات اس پر آئیں گے مثلا ٹائر پنکچر ہونے کی صورت میں اس کی درستگی یا ٹیوننگ وغیرہ پر آنے والا خرچہ یہ  مستاجر کے ذمہ  ہوگا ۔تو ایسی مرمت کو جدید اصطلاح میں "الصیانۃ العادیۃ"کہا جاتاہے ۔اس قسم کی  شرائط کے  جائز یا ناجائز ہونے کو عرف  یا عاقدین  کے درمیان  ہونے والے معاہدے پر موقوف رکھنا عقد اجارہ  کے مقتضی  کے خلاف  نہیں  لہذا اگر عرف میں  یہ ا خراجات مستاجر پر لازم ہوں یا  عقد اجارہ میں یہ شرط لگائی جائے کہ یہ مستاجر پر لازم ہونگے  تو دونوں صورتوں  میں یہ اخراجا ت  مستاجر کے ذمے ہوں گے ،اس لئے کہ عموما اس طرح کے  اشیاء  (جو اجارہ پر لی ہوئی چیز کے درست استعمال کیلئے ضروری ہوتی ہے )کا تعلق عرف سے ہوتا ہے  اور عرف  ہر علاقےاور  زمانے  کا مختلف ہوسکتا ہے لہذا یہ عین ممکن ہے کہ ایک چیز کے اجارہ میں ایک علاقے کے عرف  کے مطابق کسی چیز کی ضرورت محسوس کی جاتی ہو اور وہ اجارہ کے معاملہ کا حصہ ہو  لیکن دوسرے علاقے  میں اس چیز کو اجارہ کا لازمی حصہ نہ سمجھا جاتا ہو ۔لہذا  معمولی قسم کے اخراجات   کا خرچہ  عرف   یا عقد کے اندر شرط کی وجہ سے مستاجر پر لازم کیا جاسکتا ہے ۔

          جہاں تک گاڑی کو کرایہ پر دینے کے بعد پٹرول ڈالنے مسئلہ ہے  کہ یہ گاڑی کے مالک  پر لازم ہے یا  گاڑی کو کرایہ پر لینے والے   شخص کے ذمہ ؟تو چونکہ پٹرول وغیرہ کا تعلق گاڑی کے اصل پرزہ جات (انجن ،ٹائر،باڈی وغیرہ )کے ساتھ نہیں بلکہ گاڑی چلانے اور اس سے منفعت حاصل کرنے کیلئے پٹرول ڈالنے کی ضرورت پڑتی ہے یعنی گاڑی سے فائدہ حاصل کرنا پٹرول پر موقوف ہےاور اثاثے سے فائدہ حاصل کرنے کا تعلق مستاجر کے ساتھ ہے لہذا  پٹرول کے اخراجات مستاجر پر آئیں گے ۔اور  ایسی صورت میں درحقیقت  عقداجارہ  گاڑی کے صحیح سالم پرزوں   کے ساتھ متعلق ہوگا یعنی پٹرول کے بغیر صرف گاڑی کو کرایہ پر لیا جائے گا   ۔اور گاڑی کے عوض مقررہ اجرت لازم ہوگی ۔

وعمارۃ الدار وتطیینھا واصلاح میزابھا  علی الآجر ۔۔۔قال فی المحیط فان شرط رب الحمام على المستاجر نقل الرماد والسرقين لا يفسد العقد ،قال الفقيه ابو الليث المعتبر في ذالك  عادات الناس  في تلك البلدة ولو طلب  من المكاري ان يدخل بيته  فالمعتبر  هو العرف۔(خلاصة الفتاوى ج3ص147)

( وعمارة الدار ) المستأجرة ( وتطيينها وإصلاح الميزاب وما كان من البناء على رب لدر ) وكذا كل ما يخل بالسكنى ( فإن أبى صاحبها ) أن يفعل ( كان للمستأجر أن يخرج منها إلا أن يكون ) المستأجر ( استأجرها وهي كذلك وقد رآها ) لرضاه بالعيب ۔(تنوير الابصار مع الدر المختار، كتاب الاجارة، باب فسخ الاجارة،ج9ص109)

ولو امتلأ مسيل الحمام فعلى المستأجر تفريغه ظاهرا كان أو باطنا ۔ وفيها وتسييل ماء الحمام وتفريغه على المستأجر وإن شرط نقل الرماد والسرقين رب الحمام على المستأجر لا يفسد العقد وإن شرط على رب الحمام فتأمل  ولعله مفرع على القياس أو مبني على العرف ففي البزازية وفي استئجار الطاحونة في كري نهرها يعتبر العرف۔(رد المحتار،كتاب الاجارة، باب فسخ الاجارة،مطلب اصلاح بئر الماءوالبالوعةوالمخرج ،ج9ص109)

ولو استأجر عبدا بأجر معلوم كل شهر بطعامه لم يجز لأن طعامه مجهول وهو على رب العبد فإذا شرطه على المستأجر كان فاسدا والمجهول متى ضم إلى المعلوم يصير الكل مجهولا به وكذلك استئجار الدابة بأجر مسمى وعلفها وكذلك كل إجارة فيها رزق أو علف فهي فاسدة إلا في استئجار الظئر بطعامها وكسوتها وإن أبا حنيفة رحمه الله قال أستحسن جواز ذلك۔(المبسوط للسرخسي ،كتاب الاجارة،باب اجارة الفاسدة،ج16ص33)

استأجر عبدا أو دابة على أن يكون علفها على المتسأجر ذكر في الكتاب أنه لا يجوز وقال الفقيه أبو الليث في الدابة نأخذ بقول المتقدمين أما في زماننا فالعبد يأكل من مال المستأجر عادة قال الحموي أي فيصح اشتراطه واعترضه بقوله فرق بين الأكل من مال المستأجر بلا شرط ومنه بشرط ، أقول المعروف كالمشروط وبه يشعر كلام الفقيه كما لا يخفى على النبيه ثم ظاهر كلام الفقيه أنه لو تعورف في الدابة ذلك يجوز  تأمل۔(رد المحتار ،كتاب الاجارة،باب الاجارة الفاسدة،ج6ص47)


فتویٰ نمبر : 2785/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور