بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زندگی میں ہبہ کردہ مال کو وراثت میں شمار کرنا


سوال

کوئی شخص اپنی حیات میں اپنے مملوکہ مال سے صرف اپنی نرینہ اولاد کو مال یا جائیداد ہبہ کرے اور قبضہ بھی ان کے حوالہ کر دے علاوہ اس کے جو مال اس شخص کی ملکیت میں باقی ہو بعد از وفات صرف وہی مال ترکہ شمار ہوگا یا پھر جو مال اپنی نرینہ اولاد کو ہبہ کر چکا وہ بھی ترکہ شمار کیا جائے گا ؟

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں ہر شخص کو اپنے ذاتی مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز  تصرفات کا اختیار حاصل ہے اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو انصاف سے کام لیکر سب کو برابر حصہ دینا چاہیے کسی کو بلامعقول وجہ کم دینے یا محروم کرنے سے گناہ گار ہوگا تاہم یہ گناہ ہبہ کرنے والے تک محدود رہے گا موہوب لہ تک اس کا اثر نہیں پہنچتا اسی طرح موہوب لہ جب ہبہ کو قبول کرے اور اس پر قبضہ کرے تو ہبہ تام ہوکر موہوبہ  چیز واہب کی ملکیت سے نکل کرموہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے  لہذا واہب  جو مال اپنی حیات میں ہبہ کر چکا ہو اس کی وفات کے بعد موہوبہ مال اس کی وراثت میں شمار نہیں ہوگا۔

صورت مسئولہ میں بشرط صدق و ثبوت اگر کوئی شخص اپنی اولاد میں سے صرف نرینہ اولاد کو زندی میں ہبہ کرے اور وہ  قبضہ بھی کر لیں  تو یہ ان بیٹوں کی ملکیت ہوگی دیگر ورثا کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا ،  تا ہم غیر منصفانہ تقسیم پر وہ  شخص گنہگار ہوگا۔ اب اگر مذکر اولاد اپنی مرضی اور اختیار سے ان مونث ورثا کو کچھ دیں تو بہتر ہوگا تاکہ ان کے حق میں مرحوم سےجو حق تلفی ہوئی ہےوہ اس  کو دل سے معاف کردیں ،  علاوہ ازیں جو   مال وجائیداد اس شخص سے میراث میں باقی  رہ گئی  وہ اس  کا ترکہ شمار ہوکر   حقوق متقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد تمام ورثاء کے مابین شرعی اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگی۔

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا۔۔۔عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى۔  (الفتاوی الهندية، ج4، ص391)

ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا۔ (الفتاوی الهندية، ج4،ص377)

ولو وھب جميع ماله لابنه جاز فی القضاء و هوآثم۔   (خلاصة الفتاوى، ج4، ص400)


فتویٰ نمبر : 4548/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور