بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
تعزیر بالمال کا حکم
سوال
کیا اسلام میں مالی تعزیر دینے کا جواز ہے؟ اور کیا دینی مدرسہ کے طلباء سے مالی جرمانہ وصول کیا جاسکتا ہے؟
جواب
تعزیر بالمال کے جواز اور عدم جواز میں فقہاءکرام کا اختلاف ہے اکثر فقہاء احناف نے تعزیر بالمال کو ناجائز قرار دیا ہے۔جبکہ حضرت امام ابو یوسفؒ سے اس کا جواز منقول ہے اور بعض متاخرین فقہاءحنفیہ نے بھی اس کو اختیار کیا ہے پھر ان حضرات نے امام ابو یوسفؒ کے قول کی تفصیل یہ بیان کی ہے۔کہ حاکم مجرم سے مال لے کر اپنے پاس روکے رکھے،اگر وہ جرم سے باز آئے تو اس کو واپس کردے،اور اگر باز نہیں آتا تو پھر حاکم اس مال کو مفاد عامہ میں استعمال کرسکتا ہے کیونکہ جرم سے توبہ نہ کرنے کی صورت میں اگر وہ مال اسے واپس کیا جائے تو اس سے تعزیر کا مقصد حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے جرم کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔موجودہ حالات کا تقاضا بھی یہ ہے کہ بعض انتظامی امور میں مالی تعزیرات مقرر کی جائیں ،کیونکہ ہر جرم پر جسمانی سزا دینا بسا اوقات انتظامیہ کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے اور بعض دفعہ جسمانی سزا سے کسی جرم کی روک تھام بھی نہیں ہوتی لیکن مالی سزا سے ہوجاتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر طلباء سے غیر حاضری کی صورت میں مالی جرمانہ وصول کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے،لیکن اس بات کا خیال رہے کہ اول تو اس جرمانہ کو محفوظ رکھا جائے اگر وہ باز آجائیں تو انہیں واپس کیا جائے اور اگر باز نہیں آتے تو پھر اس کو مدرسہ کے عمومی مفاد میں خرچ کیا جائے۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ ،عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ،عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ فَقَالَ :مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِى حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ ،وَمَنْ خَرَجَ بِشَىْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ۔(سنن ابی داود،باب التعریف باللقطۃ،ج1ص247)
يَجُوزُ التَّعْزِيرُ بِأَخْذِ الْمَالِ وَهُوَ مَذْهَبُ أَبِي يُوسُفَ وَبِهِ قَالَ مَالِكٌ ، وَمَنْ قَالَ : إنَّ الْعُقُوبَةَ الْمَالِيَّةَ مَنْسُوخَةٌ فَقَدْ غَلِطَ عَلَى مَذَاهِبِ الْأَئِمَّةِ نَقْلًا وَاسْتِدْلَالًا وَلَيْسَ بِسَهْلٍ دَعْوَى نَسْخِهَا .وَفِعْلُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ وَأَكَابِرِ الصَّحَابَةِ لَهَا بَعْدَ مَوْتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُبْطِلٌ لِدَعْوَى نَسْخِهَا ، وَالْمُدَّعُونَ لِلنَّسْخِ لَيْسَ مَعَهُمْ سُنَّةٌ وَلَا إجْمَاعٌ يُصَحِّحُ دَعْوَاهُمْ۔(معین الحکام،فصل التعزیرلا یختص بفعل معین ص 231)
وفي الْمُجْتَبَى لم يذكر كَيْفِيَّةَ الْأَخْذِ وَأَرَى أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمْسِكَهَا فَإِنْ أَيِسَ من تَوْبَتِهِ يَصْرِفُهَا إلَى ما يَرَى۔(البحر الرائق،کتاب الحدود ج5 ص44)