بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
رنگ کے ڈبے میں موجود ٹوکن کی رقم کا حکم
سوال
ایک آدمی پینٹر (رنگساز)ہے وہ اجرت پر رنگ کا کام کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے رنگ کی بالٹی مالک خرید تا ہے پھر ہم اس رنگ کے ساتھ اس مالک کے گھر وغیرہ کو رنگ دیتے ہیں اور وہ مالک ہمیں یومیہ اجرت دیتا ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ اس رنگ کی بالٹی میں 100روپوں یا اس سے زیادہ کا ٹوکن ہوتا ہے تو اس ٹوکن میں موجودہ روپوں کا لینا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
رقم کے عوض کسی کیلئے کوئی عمل سر انجام دینا اجارہ کہلاتا ہے جس میں اجیر کیلئے مقررہ عوض تو لینا جائز ہے لیکن متعین اجرت کے علاوہ مستاجر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے زیادہ رقم لینا جائز نہیں ۔تاہم اگر وہ اپنی رضامندی سے کچھ زیادہ رقم وغیرہ دے دے تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
صورت مسؤلہ میں مذکورہ شخص جو رنگ دینے کے واسطے اجرت پر رکھا گیا ہے وہ عمل کرنے سے مقررہ اجرت کا حق دار ٹھہرتا ہے لیکن رنگ کی بالٹی جب مالک کی ملکیت ہے توٹوکن کے روپوں کا بھی مستحق بھی مالک ہی ہوگا لہذا شرعا رنگساز کیلئے یہ رقم لینا حلال نہیں ۔
عَنْ أَبِى حُرَّةَ الرَّقَاشِىِّ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ :« لاَ يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ ».(السنن الکبری للبیہقی،باب من ادخل لوحا ج6ص100)
إنها نوعان نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور ۔۔۔ونوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الاجارة،الباب الاول في تفسير الاجارةج4ص411)
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها(ايضاج4ص411)