بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مزنیہ کی بیٹی سے کئےگئے نکاح کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنی مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کیا ہوا ہے جس سے بچے بھی ہیں اب سوال یہ ہے کہ بیوی کو چھوڑنے کی صورت میں بہت سے مفاسد کا خطرہ ہے لہذا شرعا اس کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے زنا کرلینے سے مرد اور عورت کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہوکر زانی اور مزنیہ پر ایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہو جاتے ہیں تاہم اگر لا علمی کی وجہ سے مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کیا گیا ہو تو یہ نکاح فاسد شمار  ہوگا اور مرد پر لازم ہوگا کہ وہ عورت کو جدائی کے الفاظ مثلاطلاق وغیرہ کہہ کر چھوڑ دے ۔اس نکاح کے نتیجے میں پیداشدہ اولاد کا نسب اسی شخص سے ثابت ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنی مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کیا ہو تو شرعا اس پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ اس کو طلاق یا علیحدگی پر دلالت کرنے والا کوئی اور لفظ کہہ کر چھوڑ دے۔جب کہ بچوں کا نسب اسی سے ثابت ہوگا۔

( قوله : وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته )قال في البحر : أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا ۔(رد المحتار على الدرا لمختاركتاب النكاح ، فصل في المحرمات ج4ص144)

وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول ، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك۔(ردالمحتار على الدر المختاركتاب النكاح ،فصل في المحرمات)

 ويجب مهر المثل في نكاح فاسد بالوطي ۔۔۔وتجب العدةبعد الوطي لاالخلوة۔۔۔ويثبت النسب احتياطا۔(الدرالمختار على صدرردالمحتاركتاب النكاح ج4ص277،274)


فتویٰ نمبر : 6194/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور